Saturday, February 07, 2026 | 19, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • بھارت اور امریکہ کے درمیان اعلان کردہ تجارتی معاہدے پر، کانگریس لیڈر برہم

بھارت اور امریکہ کے درمیان اعلان کردہ تجارتی معاہدے پر، کانگریس لیڈر برہم

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Feb 07, 2026 IST

بھارت اور امریکہ کے درمیان اعلان کردہ تجارتی معاہدے پر، کانگریس لیڈر برہم
بھارت اور امریکہ کے درمیان اعلان کردہ تجارتی معاہدے کو لے کر ملک کی سیاست میں گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے اس ڈیل پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، دونوں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہا کہ امریکہ، بھارت مشترکہ بیان میں کئی اہم نکات اب بھی غیر واضح ہیں، لیکن جو معلومات سامنے آئی ہیں وہ بھارت کے مفادات کے حوالے سے تشویش پیدا کرتی ہیں۔
 
جے رام رمیش کے مطابق، اس معاہدے کے بعد بھارت روس سے تیل کی درآمد بند کر دے گا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر بھارت براہِ راست یا بالواسطہ طور پر روس سے تیل خریدتا ہے تو اس پر 25 فیصد تعزیری ٹیکس دوبارہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ کانگریس رہنما کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بھارت کی توانائی سلامتی اور آزاد خارجہ پالیسی پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔
 
کسانوں کے مفادات پر تشویش
 
کانگریس رہنما نے الزام عائد کیا کہ اس ڈیل کے تحت بھارتی کسانوں کی قیمت پر امریکی کسانوں کو فائدہ پہنچایا جائے گا۔ ان کے مطابق، بھارت امریکی زرعی مصنوعات کی درآمد پر ٹیرف میں بڑی کمی کرے گا، جس سے ملکی کسانوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔ جے رام رمیش نے اسے زرعی شعبے کے لیے ایک نہایت حساس مسئلہ قرار دیا۔
 
تجارتی توازن بدلنے کا دعویٰ
 
جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے بعد امریکہ سے بھارت کی سالانہ درآمدات تقریباً تین گنا تک بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں اشیاء کی تجارت میں بھارت کا طویل عرصے سے قائم تجارتی سرپلس ختم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اسے بھارتی معیشت کے لیے ایک منفی اشارہ بتایا۔
 
آئی ٹی اور خدماتی شعبے پر غیر یقینی صورتحال
 
کانگریس رہنما نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں بھارت کے آئی ٹی اور دیگر خدماتی برآمدات کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں ہے۔ ان کے مطابق، اس ڈیل میں خدماتی شعبے کے لیے کوئی ٹھوس ضمانت نظر نہیں آتی، جس سے بھارتی آئی ٹی کمپنیوں اور پیشہ ور افراد کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
 
بھارتی برآمدات پر زیادہ ٹیرف کا الزام
 
جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ اب بھارتی اشیاء کی برآمدات کو امریکہ میں پہلے کے مقابلے زیادہ محصولات (ٹیرف) کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے بھارتی برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔
 
سیاسی طنز اور سخت تبصرہ
 
اپنی پوسٹ کے آخر میں جے رام رمیش نے اس پورے معاملے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اتنی گلے ملنے اور فوٹو آپس کے باوجود کوئی خاص نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے لکھا کہ نمستے ٹرمپ پر ہاوڈی مودی بھاری پڑ گیا اور دوست، دوست نہ رہا۔ کانگریس رہنما کے اس بیان کو حکومت کی امریکہ پالیسی پر براہِ راست سیاسی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔