نئی دہلی: مرکز جماعت اسلامی ہند، نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے فرمایا کہ ’’جماعت ہمیشہ سے انتہا پسندی کی مذمت کرتی رہی ہے۔ ہم ایک بار پھر دہلی میں ہوئے دھماکہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک میں اس قسم کے واقعات کے خاتمے پر اپنی توجہات مرکوز کرے ۔
دہلی میں ہوئے دھماکے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ "مجرم چاہیں جو بھی ہوں اور اپنے عمل کی کیسی ہی تاویل کیوں نہ کریں، ان کی دہشت گردی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خود کش حملےاوراجتماعی تشدد چاہے کسی بھی شکل میں ہو، انسانی وقارو اخلاقیات اور تہذیب کے خلاف ہے ۔ ہر شہری اور ادارے کو اس کی پرزور مخالفت کرنی چاہئے۔
محترم امیر جماعت نے لال قلعہ اور نوگام پولیس اسٹیشن میں ہوئے حالیہ دھماکے جن میں متعدد افراد کی جانیں گئیں، میں ہونے والی سیکورٹی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان خامیوں پر حکومت کو خصوصی دھیان دینا چاہئے۔ انہوں نے بعض میڈیا کی جانب سے مسلم مخالف پروپیگنڈے اور نفرتی بیانیہ پھیلانے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے سماج میں دوریاں بڑھتی ہیں اور دہشت گردوں کی حکمت عملی کو تقویت ملتی ہے۔
فضائی آلودگی کے بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ عارضی اور وقتی اقدامات کے بجائے ملک گیر سطح پر سائنسی بنیادوں پرمبنی شفاف آب و ہوا کے لیے مستقل حکمت عملی اختیار کی جائے ۔ انہوں نے مرکز اور ریاستوں کے درمیان مشترکہ کوششوں، صنعتوں اور گاڑیوں کے آلودگی کے کنٹرول سے متعلق قواعد و ضوابط کے سختی سے نفاذ، کھیتی کے باقیات کو جلانے کے لیے کسانوں کے لیے مناسب حل، اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے محفوظ پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ پر زور دیا۔
وقف رجسٹریشن کے حوالے سے جماعت اسلامی ہند کے عملی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے امیر جماعت نے بتایا کہ جماعت کی جانب سے ایک ’ سینٹرل وقف ہیلپ ڈیسک ‘ اور ’کئی اسٹیٹ وقف سیلس‘ قائم کیے گئے ہیں ۔ جن میں تقریبا 150 تربیت یافتہ رضاکار، ورکشاپس، ہیلپ لائنز کے ذریعے خدمات انجام دے رہے ہیں تاکہ متولیان مساجد کو ’ امید پورٹل‘ پر مطلوبہ معلومات اپ لوڈ کرنے میں معاونت فراہم کی جا سکے۔
محترم امیر جماعت نے وقف رجسٹریشن کی آخری تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پورٹل میں پائی جانے والی تکنیکی خرابیوں کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ سسٹم میں پائی جانے والی کمزوریوں کے باعث کوئی بھی وقف جائیداد رجسٹرڈ ہونے سے باقی نہ بچے۔
انہوں نے وقف ترمیمی ایکٹ پر جماعت اسلامی ہند کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقف ترمیمی ایکٹ اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور یہ آئینی اقدار کے بھی منافی ہے۔
اسپیشل انٹینسیو ریویژن ( SIR ) پر اظہار خیال کرتے ہوئے امیر جماعت نے فرمایا کہ ’بی ایل او‘ پر حد سے زیادہ کام کا بوجھ، ان کی اموات اور شدید ذہنی دباؤ کی اطلاعات اور طریقہ کار میں شفافیت کی کمی نے تشویش پیدا کردی ہے۔ الیکشن کمیشن عوامی طور پر واضح کرے کہ ’ SIR شہریت کی تصدیق کی مہم نہیں ہے، ایس آئی آر کے لیے سرکاری عملے میں اضافہ کیا جائے، وقت میں توسیع ہو اور شفاف طریقے پر شکایتوں کے ازالے کا نظام قائم کیا جائے۔اس کانفرنس سے نائب امراء جماعت پروفیسر سلیم انجینئر اور ملک معتصم خان نے بھی خطاب کیا۔