Friday, February 27, 2026 | 09 رمضان 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • غزہ بحران کے دوران وزیرِ اعظم کے دورہ اسرائیل پر امیرِ جماعت اسلامی ہند کا اظہارِ تشویش

غزہ بحران کے دوران وزیرِ اعظم کے دورہ اسرائیل پر امیرِ جماعت اسلامی ہند کا اظہارِ تشویش

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 26, 2026 IST

غزہ بحران کے دوران وزیرِ اعظم کے دورہ اسرائیل پر امیرِ جماعت اسلامی ہند کا اظہارِ تشویش
 جماعتِ اسلامی ہند کے امیر، سید سعادت اللہ حسینی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل اور وہاں کی قیادت کے ساتھ ان کی عوامی ملاقاتوں پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب غزہ شدید انسانی بحران اور تباہ کاریوں سے دوچار ہے، اس پس منظر میں وزیرِ اعظم کا اسرائیل کا دورہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

 وزیرا عظم کےبیان نے ہندوستانیوں کو کیا مایوس 

میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی تقریر اور عوامی اندازِ بیان نے ان لاکھوں ہندوستانیوں کو مایوس کیا ہے جو عالمی سطح پر انصاف، انسانی حقوق اور مظلوم اقوام کی حمایت کے علمبردار رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں، اقوامِ متحدہ کے عہدیداران اور امدادی ادارے غزہ کی صورتحال پر سنگین خدشات ظاہر کر رہے ہیں، تو ایسے ماحول میں بھارت کی قیادت سے ایک متوازن اور اصولی موقف کی توقع کی جا رہی تھی۔

 ہندوستان کی خارجہ پالیسی تبدیل 

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہمیشہ نسلی امتیاز، نوآبادیاتی قبضے اور ہر قسم کی ناانصافی کی مخالفت پر قائم رہی ہے۔ بھارت کا عالمی وقار محض تزویراتی مفادات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی تہذیبی اقدار، انسانی ہمدردی اور اخلاقی اصولوں کے سبب قائم ہوا ہے۔ ان کے مطابق عوام کو امید تھی کہ وزیرِ اعظم اپنے دورے کے دوران اسی تاریخی ورثے کی عکاسی کریں گے۔

 غزہ کی تباہی محض سیاسی تنازع نہیں 

سید سعادت اللہ حسینی نے مزید کہا کہ فلسطینی علاقوں پر طویل عرصے سے جاری قبضے اور غزہ میں ہونے والی تباہی کو محض سیاسی تنازع کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک سنجیدہ انسانی اور اخلاقی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نازک وقت میں اسرائیلی قیادت کے ساتھ گرمجوشی کا اظہار ملک کے ایک بڑے طبقے کے لیے تکلیف کا باعث بنا ہے، جو فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔

عالمی سطح پر بھارت کی اخلاقی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے

انہوں نے یاد دلایا کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد خود استعماری تسلط اور ناانصافی کے خلاف ایک اخلاقی تحریک تھی۔ اسی پس منظر میں بھارت کی قومی شناخت اور عالمی احترام تشکیل پایا۔ ان کے مطابق، اگر انسانی مصائب کے ایسے مواقع پر اصولی موقف اختیار نہ کیا جائے تو یہ اس تاریخی ورثے کو کمزور کر سکتا ہے اور عالمی سطح پر بھارت کی اخلاقی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

مسئلہ فلسطین،بنیادی طور پر انسانی اور اخلاقی مسئلہ

امیرِ جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف جغرافیائی یا سیاسی نہیں بلکہ بنیادی طور پر انسانی اور اخلاقی مسئلہ ہے۔ ہندوستان کی تہذیبی روایت ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کی رہی ہے، اور یہی روایت ملک کی قیادت سے جرات مندانہ اور منصفانہ آواز بلند کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔

انصاف اور انسان دوستی کے اصولوں کو برقرار رکھے

اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت اس کی معاشی یا عسکری قوت سے زیادہ اس کی اخلاقی آواز میں مضمر ہے۔ انہوں نے قیادت پر زور دیا کہ وہ قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے انصاف اور انسان دوستی کے اصولوں کو برقرار رکھے۔