جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جمہوریہ اسلامی ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی، ہندوستان میں آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے نمائندہ آیت اللہ ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی اور رہبرِ اعلیٰ کے نائب نمائندہ حجۃ الاسلام آغا ضیائی سے ملاقات کی۔ اس وفد میں جماعت کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر اور قومی سیکریٹری آئی کریم اللہ بھی شامل تھے۔
ملاقات کے دوران جماعتِ اسلامی ہند کے قائدین نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی قیادت اور عوام سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پوری دنیا میں انصاف اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے افراد کے لیے ایک مضبوط تحریک اور حوصلے کا ذریعہ بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی عظیم شخصیات کی قربانیاں تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں اور آنے والی نسلوں کو حق اور انصاف کی راہ پر چلنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
جماعتِ اسلامی ہند کے امیر نے اپنے بیان میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی جارحیت کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے اسے بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی خودمختار ملک کے خلاف طاقت کا استعمال عالمی امن کے لیے خطرہ ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام نے جس صبر، حوصلے اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ ایرانی قوم نے مشکل حالات کے باوجود جس استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی ہے، وہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔
وفد نے اس موقع پر ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعتِ اسلامی ہند ہمیشہ مظلوموں اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنے والوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ تنازعہ کو جنگ اور طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے دعا کی کہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی قائم ہو اور تمام ممالک باہمی احترام اور تعاون کے ساتھ مسائل کا حل تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ تنازعات کو بڑھانے کے بجائے امن کے قیام میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی باہمی روابط اور مکالمے کے ذریعے امن و انصاف کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔