حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی ولادتِ باسعادت15 رَمضانُ المبارَک 3ہجری میں مدینہ طیبہ میں ہوئی۔آ پ کامبارک نام حسن اور کنیت ابو محمد ہے۔آپ کو ریحانۃ النبی ﷺ (حضورﷺ کے پھول) اور شبیہ النبی(حضورﷺکے مشابہ) بھی کہا جاتا ہے۔حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے بڑھ کر نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ملتا جلتا کوئی بھی شخص نہ تھا۔
آپ خاتونِ جنت سیّدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بڑے صاحبزادے ہیں۔آپ کی ولادت کے ساتویں دن آپ کا عقیقہ کیا گیا۔
امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے چاروں خلفائے راشدین کی خلافت کا زمانہ دیکھا اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد پانچویں خلیفہ منتخب ہوئے۔ رمضان المبارک 40 ھجری میں کوفہ میں حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کی ابتداء ہوئی چالیس ہزار لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔
چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی مسند نشینی کے پانچ ماہ دس دن بعد ربیع الاوّل 41 ھ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دست برداری اختیار کر لی۔حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دست بردار ہونے کی وجہ یہ تھی کہ آپ مسلمانوں میں تصادم نہیں چاہتے تھے۔
خلافت سے دستبردار ہونے کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ اور احیائے دین کی سرگرمیوں میں مشغول ہو گئے۔
وفات:
حضرت امام حسن کو قیام مدینہ کے دوران کئی مرتبہ زہر دیا گیا۔لیکن آخری مرتبہ کے زہر سے آپ کی شہادت واقع ہوئی۔آپ نے اپنے قاتل کا نام کسی پر ظاہر نہ کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں کے درمیان تصادم ہو جائے۔
آپ کی شہادت ربیع الاول 49 ھجری میں ہوئی اس وقت آپ کی عمر مبارک 46 سال تھی۔ آپ کو اپنی والدہ کے پہلو میں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
دیکھیے منصف ٹی وی کا خاص پروگرام :فیضان رمضان