Saturday, February 07, 2026 | 19, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • جماعت اسلامی ہند کا امریکی ٹیرف، بجٹ کےاثرات اور فرقہ وارنہ تشدد پرسخت رد عمل

جماعت اسلامی ہند کا امریکی ٹیرف، بجٹ کےاثرات اور فرقہ وارنہ تشدد پرسخت رد عمل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Feb 07, 2026 IST

  جماعت اسلامی ہند کا امریکی ٹیرف، بجٹ کےاثرات اور فرقہ وارنہ تشدد پرسخت رد عمل
جماعت اسلامی ہند نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے مجوزہ ٹیرف معاہدے اوراس سے متعلق سامنے آنے والی متضاد اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اس اہم معاہدے کے بارے میں نہ تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور نہ ہی ملک کے عوام کو کسی قسم کی شفاف معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس معاہدے سے متعلق تفصیلات زیادہ تر سوشل میڈیا رپورٹس اور امریکی حکام کے بیانات کے ذریعے سامنے آ رہی ہیں۔ امریکی بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ہندوستان امریکی مصنوعات پر ٹیرف صفر تک کم کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے، جبکہ امریکہ ہندوستانی برآمدات پر تقریباً 18 فیصد ٹیرف عائد رکھے گا۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ معاہدے کے توازن اور انصاف پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ جن ٹیرف سطحوں کو کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وہ درحقیقت پہلے سے موجود شرحوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
 
سید سعادت اللہ حسینی نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ اب تک امریکی ٹیرف سے محفوظ رہنے والے ہندوستانی زرعی شعبے کو امریکہ کے لیے کھولا جا رہا ہے، جس سے کسانوں کی روزی روٹی اور قومی غذائی تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے روس سے ہندوستان کی تیل خریداری سے متعلق امریکی دعووں پر بھی وضاحت نہ آنے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ حکومت کی خاموشی سے اس کی خودمختاری اور قوتِ فیصلہ پر شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔
 
یونین بجٹ 2026–27 پر تبصرہ کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے معاشی استحکام، سرمائے کے اخراجات اور مالیاتی نظم و ضبط پر زور دیا ہے، لیکن روزگار کی تخلیق، سماجی شعبے کی ضروریات، بڑھتی معاشی عدم مساوات اور عوامی قرض کے بڑھتے بوجھ جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں بجٹ ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 12.2 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے سرمائے کے اخراجات طویل مدتی بنیادی ڈھانچے کے لیے مفید ہو سکتے ہیں، تاہم صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے لیے مختص فنڈز قومی پالیسی اہداف سے کہیں کم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانی ترقی اور سماجی انصاف میں مناسب سرمایہ کاری کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔
 
اس موقع پر جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ اور ذات پات پر مبنی تشدد کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2025 میں نفرت انگیز تقاریر کے 1,318 واقعات درج کیے گئے، جن میں سے 98 فیصد میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ دلت اور دیگر محروم طبقات کے خلاف تشدد کے واقعات بھی تشویشناک حد تک بڑھے ہیں۔
 
اتراکھنڈ کے کوٹدوار واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک مسلم تاجر کو بچانے والے نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا قانون اور انصاف کا مذاق ہے، جبکہ اصل مجرموں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ ملک معتصم خان نے مطالبہ کیا کہ تمام فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، متاثرین کو قانونی تحفظ دیا جائے اور آئینی اقدار و سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔