Friday, August 21, 2026 | 06 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • امریکی سفیر کے سری نگر دورے پر سیاست گرم، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی آمنے سامنے

امریکی سفیر کے سری نگر دورے پر سیاست گرم، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی آمنے سامنے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 20, 2026 IST

امریکی سفیر کے سری نگر دورے پر سیاست گرم، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی آمنے سامنے
بھارت میں متعین امریکی سفیر سرجیو گور کے سری نگر دورے اور جموں و کشمیر سے متعلق ان کے بیان کے بعد خطے کی سیاست میں بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے امریکی سفارت کار کو طلب کیے جانے کے معاملے پر جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماؤں نے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔
 
عمر عبداللہ: یہ پاکستان اور امریکہ کا معاملہ ہے
 
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سری نگر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امریکی سفارت کار کو طلب کرنا بنیادی طور پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان کا معاملہ ہے۔ اس میں وہ یا کوئی دوسرا شخص مداخلت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس ایک قومی سیاسی جماعت ہے اور اسے کسی غیر ملکی وفد کے دورے پر اپنا اعتراض یا سیاسی مؤقف پیش کرنے کا جمہوری حق حاصل ہے۔
 
محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ پر اٹھائے سوال
 
دوسری جانب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) کی صدر محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کے مؤقف پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر سے ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ کو مسلم ممالک کے بارے میں امریکی پالیسی اور ایران جنگ سے متعلق اپنے تحفظات واضح طور پر سامنے رکھنے چاہئیں تھے۔ محبوبہ مفتی نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2019 سے پہلے جب بھی امریکی وفود یا اعلیٰ امریکی شخصیات کشمیر کا دورہ کرتی تھیں، تو وہ معاشرے کے مختلف طبقات سے ملاقاتیں کرتی تھیں۔ ان کے مطابق، موجودہ دوروں میں اس روایت میں تبدیلی نظر آ رہی ہے۔
 
امریکی ٹریول ایڈوائزری پر خیرمقدم
 
محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر کے حوالے سے امریکہ کی ٹریول ایڈوائزری پر نظرثانی کے فیصلے کا خیرمقدم بھی کیا۔ ان کے مطابق یہ خطے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس سے کشمیر کے بارے میں عالمی سطح پر بہتر تاثر پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ امریکی سفیر کے دورے نے ایک بار پھر جموں و کشمیر کے سیاسی منظرنامے میں مختلف جماعتوں کے درمیان موجود مؤقف کے فرق کو نمایاں کر دیا ہے۔ ایک طرف عمر عبداللہ نے اسے سفارتی معاملہ قرار دیا، تو دوسری جانب محبوبہ مفتی نے امریکی پالیسیوں اور کشمیر میں سفارتی رابطوں کے طریقہ کار پر زیادہ واضح سیاسی مؤقف کی ضرورت پر زور دیا ہے۔