لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو کہا کہ دہشت گرد نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پولیس اور فوج کی جامع کوششیں جاری ہیں۔ جموں میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایل جی نے کہا کہ دہشت گردی کے متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ اب ایسے ملازمین کے ورثا کو بھی تقرری نامے دیے جائیں گے جن کی موت قدرتی طور پر ہوئی ہو۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج کئی متاثرین میں تقرری نامے تقسیم کیے اور ایسے افراد کی تعداد اب 438 ہو گئی ہے۔
دہشت گردوں کے حامیوں کے خلاف سخت ترین کاروائی
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام اور دہشت گردوں کے حامیوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کا عزم کیا۔ایل جی سنہانے کہاکہ میں دہشت گردی کے متاثرین کے خاندانوں سے عہد کرتا ہوں کہ ہم ان کی باوقار اور باعزت زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے پوری عزم کے ساتھ کام کریں گے۔ ہم ان کے تئیں ہر فرض کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ادا کریں گے، اور جب تک ہر خاندان کو انصاف نہیں مل جاتا ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔
متاثرہ خاندان کو انصاف کے ساتھ وقار کی بحالی
لیفٹیننٹ گورنر نے مشاہدہ کیا کہ دہشت گردی کے شکار خاندانوں کو انصاف صرف سزاؤں تک محدود نہیں ہے بلکہ زخموں پر مرہم اور وقار کی بحالی بھی ہے۔انصاف بھی ان کہانیوں میں پنہاں ہے جن کو معاشرہ یاد کرنے کا انتخاب کرتا ہے۔ انصاف کا مطلب غم زدہ خاندانوں کے آنسو پونچھنا، ان کے درد کو تسلیم کرنا اور ان کی روحوں پر لگے زخموں کو مندمل کرنا بھی ہے۔ انصاف کا مطلب یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے شکار خاندانوں کی کہانیاں، جو کبھی بھول جاتی تھیں، اب نئے سرے سے یادداشت اور اعزاز کے ساتھ لکھی جا رہی ہیں۔
دہشت گردی کا دور ختم ہو گیا
ایل جی سنہامیں دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کے باقی ماندہ عناصر اور تنازعات کے کاروبار کرنے والوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ان کا دہشت گردی کا دور ختم ہو گیا ہے۔جموں کشمیر کے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ ایسے دہشت گرد عناصر کو کس نے ڈھال بنایا، لیکن وہ ڈھال اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ میں انہیں خبردار کرتا ہوں کہ جموں کشمیر میں دہشت گردوں یا ان کی حمایت کرنے والے نیٹ ورکس کے لیے اب کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے۔
دہشت گردی سے براہ راست تعلق رکھنے والوں کو ملازمت سے برخاست
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جو لوگ اس دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کا حصہ تھے اور ماضی میں سرکاری مشینری میں دراندازی کرنے میں کامیاب رہے انہیں قانون کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں منظم طریقے سے سرکاری ملازمتوں سے ہٹایا جائے گا اور قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔دہشت گردی سے براہ راست تعلق رکھنے والوں کو ملازمت سے برخاست کیا جا رہا ہے، جب کہ دہائیوں سے نظر انداز کیے گئے دہشت گردی کے شکار خاندانوں کو ان کے معاشی اور سماجی وقار کو محفوظ بنانے کے لیے سرکاری ملازمتیں دی جا رہی ہیں۔ میں اسے محض ایک پالیسی اصلاح کے طور پر نہیں دیکھتا، بلکہ ایک نئے جموں کشمیر کے لیے ایک نئے اخلاقی اعلان کے طور پر دیکھتا ہوں۔
دہشت گردی سے منسلک افراد کو بے رحمی سے سزا ملےگی
ایل جی سنہا نے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ایک نیا حکم آچکا ہے، جو دہشت گردی سے منسلک افراد کو بے رحمی سے سزا دے گا اور متاثرین کے وقار کو بحال کرنے کے لیے اپنے فرائض کو مضبوطی سے پورا کرے گا۔ یہ اخلاقی اعلان ایک ایسے نظام کا اعلان ہے جو انصاف کی تعریف صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل میں کرتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو کنونشن سنٹر جموں میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے 37 رشتہ داروں کو تقرری کے لیٹر سونپے۔جموں و کشمیر بحالی امدادی اسکیم-2022 اور SRO 43 کے تحت 29 سرکاری ملازمین جنہوں نے سروس میں اپنی جانیں گنوائیں، اور عمر میں رعایت کے معاملات میں مستفید ہونے والوں کو بھی تقرری خطوط فراہم کیے گئے۔
ہم آج جموں و کشمیر میں ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے نوجوان اور دہشت گردی کے شکار خاندان ایک روشن مستقبل کی خواہش رکھتے ہیں اور ایک بہتر زندگی گزارنے کے خواہشمند ہیں۔ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اس مستقبل کو حقیقت بنائیں اور وہ مواقع پیدا کریں جس کے وہ مستحق ہیں،" لیفٹیننٹ گورنر نے کہا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے ہر خاندان کو انصاف، نوکریاں، پہچان اور حمایت حاصل کرنے کو یقینی بنانا ان کا عزم ہے۔"دہشت گردی کا شکار خاندان دہائیوں تک معاشرے کی یادداشت سے مٹ گئے، ان تمام کہانیوں میں سب سے تکلیف دہ اور تلخ سچائی یہ ہے کہ ان خاندانوں کو اسی نظام نے پست کر دیا جس کا فرض اور بنیادی ذمہ داری ان کی حفاظت تھی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا۔میں اسے محض ایک انتظامی کوتاہی کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ یہ اس وقت کی تہذیبی ناکامی تھی،‘‘ ۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے خاندانوں کو دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کے عناصر کی طرف سے ہراساں کیا جاتا ہے اور یہ صورت حال محض ناانصافی نہیں ہے بلکہ یہ سماجی اخلاقیات کا مکمل خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا۔"معاشرے کے بزرگوں کو اپنے آپ سے کچھ سخت سوالات پوچھنے چاہئیں - چند دہائیوں پہلے ہم کس طرح کا معاشرہ بن چکے تھے؟ جموں کشمیر ایک ایسے نظام میں کیسے تیار ہوا جہاں اس وقت شکار ایک بوجھ بن گیا اور دہشت گردی سے جڑے افراد کو فائدہ پہنچایا گیا؟
مجھے یقین ہے کہ یہ سوالات ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیں گے، کیونکہ اس طرح کے طرز عمل نے ہر اس قدر کو کھوکھلا کر دیا ہے جو معاشرے کو انصاف پسند بناتی ہے۔ اس طرح کی تاریکی نے قانون، اعتماد اور بقائے باہمی کی روح کو بجھا دیا تھا،‘‘
یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ایک نیا حکم آچکا ہے، جو دہشت گردی سے منسلک افراد کو بے رحمی سے سزا دے گا اور متاثرین کے وقار کو بحال کرنے کے لیے اپنے فرائض کو مضبوطی سے پورا کرے گا۔ یہ اخلاقی اعلان ایک ایسے نظام کا اعلان ہے جو نہ صرف الفاظ میں بلکہ اعمال میں انصاف کی تعریف کرتا ہے، "لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا۔
لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سکریٹری، ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری؛ کمشنر سکریٹری، جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، جناب ایم راجو؛ ڈویژنل کمشنر جموں، شری رمیش کمار؛ ڈپٹی کمشنر جموں ڈاکٹر راکیش منہاس۔ اعلیٰ حکام، مختلف سماجی تنظیموں کے ارکان اور دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے لواحقین نے شرکت کی۔
دہلی دھماکہ: این آئی اے چھاپے
این آئی اے کی ٹیموں نے آج دہلی کے لال قلعہ دھماکہ کیس کے سلسلے میں کشمیر کے مختلف علاقوں میں چھاپہ ماری کی۔ ضلع کپواڈہ کے ہنڈواڈہ علاقے میں بھی کارروائی انجام دی گئی، جہاں ایک کاروباری شخص کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ اس دوران تقریباً دو گھنٹے تک سرچ آپریشن جاری رہا۔ سرچ آپریشن کے دوران متعلقہ مکان سے کئی اہم دستاویزات اور الیکٹرانک آلات ضبط کیے گئے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی کیس سے جڑے افراد کا سراغ لگانے اور شواہد اکٹھا کرنے کے لیے کی گئی۔
کلگام میں این آئی اے کی کاروائی
جنوبی کشمیر کے ضلع کلگام میں آج صبح سویرے NIAنے بڑی کارروائی کرتے ہوئے متعدد مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ تلاشی مہم ایک جاری تحقیقاتی کیس کے سلسلے میں ثبوت اکٹھے کرنے کے لیے چلائی گئی، جس دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ فی الوقت کسی گرفتاری یا برآمدگی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے اور کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔