نئی دہلی کے جنتر منتر پر ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال بدھ کو 18ویں دن میں داخل ہوگئی، جبکہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا احتجاج 25ویں روز بھی جاری رہا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ NEET (UG) 2026 اور دیگر امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔
اسی دوران دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سونم وانگچک کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں زبردستی خوراک سمیت تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کی جان کو لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔
سونم وانگچک 28 جون کو اس احتجاج میں شامل ہوئے تھے اور اس کے بعد سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے مسلسل ان کی صحت سے متعلق معلومات جاری کر رہے ہیں۔ تازہ اپ ڈیٹ کے مطابق وانگچک کا وزن اب تک 8.4 کلوگرام سے زائد کم ہو چکا ہے، ان کے پٹھوں میں کمزوری آنا شروع ہوگئی ہے اور انہیں شدید جسمانی تکلیف کا سامنا ہے۔ بتایا گیا کہ ان کا بلڈ پریشر بھی کم ہو کر 109/70 تک پہنچ گیا ہے۔
ابھیجیت ڈپکے کے مطابق متعدد افراد نے وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی، تاہم انہوں نے جواب دیا کہ ان سے بھوک ہڑتال کرنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے حکومت سے بات چیت شروع کرنے کا کہا جائے۔
احتجاج کرنے والے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات کی جائیں، وزیر تعلیم مستعفی ہوں اور ایسے طلبہ کے اہل خانہ کو، جنہوں نے مبینہ طور پر ان مسائل کے باعث خودکشی کی، ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے۔
دباؤ بڑھانے کے لیے کاکروچ جنتا پارٹی نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن "چلو سنسد" مارچ کا اعلان بھی کیا ہے اور حامیوں سے اس میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب سونم وانگچک نے ایک ویڈیو پیغام میں خود کو "عام شہری" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں "جدید گاندھی" یا "ہیرو" کہنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے اور کسی ایک فرد کو نجات دہندہ سمجھنے کے بجائے خود آگے بڑھ کر ملک اور معاشرے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بھوک ہڑتال کے باعث وہ جسمانی طور پر کمزور محسوس کر رہے ہیں، لیکن اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔