• News
  • »
  • قومی
  • »
  • جنتر منتر: احتجاج کے دوران زخمی اہلکاروں کا معاملہ سپریم کورٹ میں

جنتر منتر: احتجاج کے دوران زخمی اہلکاروں کا معاملہ سپریم کورٹ میں

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 28, 2026 IST

جنتر منتر: احتجاج کے دوران زخمی اہلکاروں کا معاملہ سپریم کورٹ میں
دہلی کے جنتر منتر پر ہوئے 20 جولائی کو اسٹوڈنس کے "چلو سنسد" مظاہرے کے دوران کئی پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی خبریں ملی تھی۔ اب زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور  مطالبہ کیا ہے کہ ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کو بھی آئینی سطح پر یقینی بنایا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی عام شہریوں کی طرح زندگی اور ذاتی آزادی کے بنیادی حق کے مستحق ہیں۔
 
یہ درخواست پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کی جانب سے کی گئی جو احتجاج کے دوران زخمی ہو گئے تھیں۔ درخواست میں سپریم کورٹ سے اپیل کی گئی ہے کہ احتجاج اور عوامی مظاہروں سے متعلق رہنما خطوط مرتب کرتے وقت زخمی پولیس اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو بھی سنا جائے، تاکہ عدالت کے سامنے معاملے کی مکمل تصویر پیش کی جا سکے۔
 
درخواست میں کیا کہا گیا؟
 
درخواست گزاروں کے مطابق 20 جولائی سے 25 جولائی 2026 کے درمیان جنتر منتر پر 20 ہزار سے زائد مظاہرین موجود تھے، جنہیں کنٹرول کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 20 جولائی کو احتجاج کے دوران 130 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اس کے بعد 24 اور 25 جولائی کو بھی بعض مظاہرین کی جانب سے مبینہ طور پر پتھروں سے حملے کیے گئے، جن میں کئی سینئر پولیس افسران سمیت مجموعی طور پر تقریباً 200 اہلکار زخمی ہوئے۔
 
آئینی حقوق کا حوالہ
 
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل حقِ زندگی اور ذاتی آزادی، اور آرٹیکل 14 کے تحت برابری کا حق، ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے جیسے دیگر شہریوں پر۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ آئین کا آرٹیکل 19 شہریوں کو احتجاج اور اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، لیکن یہ آزادی مطلق نہیں بلکہ قانونی حدود کے تابع ہے۔ اس حق کی آڑ میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف تشدد یا حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
 
سپریم کورٹ سے کیا مطالبات کیے گئے؟
 
درخواست گزاروں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اس معاملے میں فریق بنایا جائے تاکہ زخمی پولیس اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کا انسانی نقطۂ نظر بھی عدالت کے سامنے رکھا جا سکے۔اس کے علاوہ عرضی میں سپریم کورٹ سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے قومی سطح پر واضح رہنما خطوط جاری کیے جائیں، ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور ایسے واقعات میں ملوث یا تشدد پر اکسانے والے افراد کے خلاف مؤثر اور سخت قانونی کارروائی کے لیے مناسب ہدایات دی جائیں۔