• News
  • »
  • کھیل/تفریح
  • »
  • تنقید سے بے پرواہ سنجو سیمسن، دوسروں کی رائے پر کھیلنے سے انکار

تنقید سے بے پرواہ سنجو سیمسن، دوسروں کی رائے پر کھیلنے سے انکار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 28, 2026 IST

تنقید سے بے پرواہ سنجو سیمسن، دوسروں کی رائے پر کھیلنے سے انکار
ہندوستانی وکٹ کیپر بلے باز سنجو سیمسن نے اپنے کرکٹ کیریئر، ذہنی سوچ اور مستقبل کے منصوبوں پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ اپنے کھیل کو دوسروں کی رائے کے مطابق تبدیل نہیں کریں گے، بلکہ اپنی صلاحیت، تجربے اور خود کے اعتماد. بھروسہ کرتے ہوئے فیصلے کریں گے۔ سنجو سیمسن نے کہا کہ 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل ہی انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ تنقید اور دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے وہ اب اپنی شرائط پر کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں۔
 
تنقید کے باوجود اعتماد برقرار رکھا
 
سنجو سیمسن نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل تین نصف سنچریاں اسکور کیں اور اپنی بیٹنگ سے سب کو متاثر کیا۔ تاہم اس کے بعد انگلینڈ اور آئرلینڈ کے خلاف سیریز میں وہ اپنی فارم برقرار نہ رکھ سکے، جس کے نتیجے میں انہیں زمبابوے کے دورے کے لیے بھارتی ٹیم میں جگہ نہیں ملی۔ 
 
اب فیصلے میں خود کروں گا
 
31 سالہ سنجو سیمسن نے کہا کہ خدا کے کرم سے وہ اپنے کیریئر میں بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں، اس لیے اب وہ ہر میچ کو بھرپور انداز میں جینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب وہ کسی کو یہ اختیار نہیں دیں گے کہ وہ انہیں بتائے کہ کس انداز میں بیٹنگ کرنی ہے یا اپنے کیریئر کے فیصلے کیسے لینے ہیں۔ انہوں نے کہا، اب میں اپنے کیریئر سے متعلق تمام فیصلے خود کروں گا اور اپنی شرائط پر کرکٹ کھیلوں گا۔ سنجو نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد انہیں امید نہیں تھی کہ وہ اگلے ورلڈ کپ کا حصہ ہوں گے۔ اسی لیے انہوں نے مستقبل کی فکر کرنے کے بجائے حال میں جینے اور ہر موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اچھی کارکردگی دکھائیں گے اور ٹیم کو ان کی ضرورت ہوگی تو مواقع خود بخود ملتے رہیں گے۔
 
ویراٹ کوہلی سے سیکھا اہم سبق
 
سنجو سیمسن نے کوہلی کے ساتھ اپنی ایک یادگار گفتگو بھی شیئر کی۔ انہوں نے بتایا کہ قومی ٹیم کے ایک کیمپ کے دوران جم میں ورزش کرتے ہوئے انہوں نے ویراٹ سے پوچھا تھا کہ طویل بین الاقوامی کیریئر کے لیے سب سے اہم چیز کیا ہے۔ سنجو کے مطابق کوہلی نے انہیں سب سے پہلے نظم و ضبط پر مبنی طرزِ زندگی اپنانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ متوازن غذا، بہترین فٹنس، مناسب آرام اور جسم کی بحالی (ریکوری) پر مسلسل توجہ دینا ایک کامیاب کرکٹر کے طویل کیریئر کی بنیاد ہے۔ ویراٹ نے انہیں یہ بھی بتایا کہ کون سی عادتیں جسم کے لیے فائدہ مند ہیں اور کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔
 
سنجو سیمسن کا بڑا اعتراف
 
سنجو سیمسن نے اعتراف کیا کہ انہوں نے کوہلی کے مشورے پر تقریباً ڈیڑھ سال تک پوری دیانت داری سے عمل کیا، لیکن وہ اتنے طویل عرصے تک اسی سخت نظم و ضبط کو برقرار نہیں رکھ سکے۔ اس کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ کوہلی کی محنت، فٹنس کے لیے لگن اور کھیل کے تئیں غیر معمولی جذبہ ہر نوجوان کرکٹر کے لیے ایک بڑی مثال اور تحریک ہے۔