مہاراشٹر میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے رہنما اور ترجمان وارث پٹھان نے قومی گیت "وندے ماترم" کی لازمی پڑھنے سے متعلق مجوزہ قانون پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان قومی گیت کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس کی بعض سطریں اسلامی عقائد کے مطابق نہیں پڑھ سکتے۔ وارث پٹھان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب 24 جولائی کو راجیہ سبھا میں "قومی عزت کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل، 2026" پیش کیا گیا۔ مجوزہ بل کا مقصد قومی گیت "وندے ماترم" کو وہی قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے جو اس وقت قومی ترانے کو حاصل ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وارث پٹھان نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم ہمیشہ "وندے ماترم" کا احترام کرتی آئی ہے، تاہم گیت کی بعض سطریں ایسی ہیں جنہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمان ادا نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق اسلام میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت یا تعظیم کو شرک سمجھا جاتا ہے، اس لیے ان سطروں کی پڑھنا ان کے مذہبی عقیدے کے خلاف ہے۔ وارث پٹھان نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ اس معاملے پر لوگوں کو ڈرانے اور دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، میں اپنے ملک کی عزت کرتا ہوں، لیکن اگر میں وندے ماترم نہ پڑھوں تو کیا مجھے سزا دی جائے گی؟ کیا مخالفت پر پھانسی دیں گے؟
قومی ترانے اور قومی گیت کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے وارث پٹھان نے کہا کہ ان کی جماعت قومی ترانہ "جن گن من" مکمل احترام کے ساتھ گاتی ہے اور قومی پرچم کو بھی سلام پیش کرتی ہے۔ ان کے مطابق قومی ترانہ اور قومی گیت دو الگ چیزیں ہیں، اور شہریوں کو "وندے ماترم" پڑھنے پر مجبور کرنا آئینی اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی مسلمان کے مذہبی عقائد اسے "وندے ماترم" کی بعض سطریں پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے تو اسے ملک دشمن یا غیر محب وطن قرار دینا ناانصافی ہے۔ وارث پٹھان نے اس موقع پر ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کی قربانیوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی آزادی میں تمام مذاہب کے لوگوں نے برابر کا کردار ادا کیا تھا، اس لیے کسی ایک طبقے کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا مناسب نہیں ہے۔