جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے طلباء اور امیدواروں کو بڑی راحت دیتے ہوئے ریاستی حکومت کے اس حکم پر عبوری روک لگا دی ہے، جس کے تحت JPSC اور JSSC کے مختلف مقابلہ جاتی امتحانات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ حکومت نے مبینہ بے ضابطگیوں اور امتحانات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد مجموعی طور پر 22 بھرتی امتحانات منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا۔ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف متاثرہ امیدواروں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ امتحانات اور ان کے نتیجے میں ہونے والی تقرریاں منسوخ کرنے سے پہلے انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔
22 بھرتی امتحانات منسوخ کرنے کا حکم
ریاستی حکومت نے مختلف مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات کے بعد CID اور SIT کی تحقیقات کی بنیاد پر یہ فیصلہ لیا تھا۔ متاثرہ امتحانات میں JPSC کا 11ویں سے 13ویں مشترکہ سول سروسز امتحان اور JSSC-CGL سمیت کئی دیگر بھرتی امتحانات شامل تھے۔ ان کے علاوہ سول جج، ڈپٹی کلکٹر، فوڈ سیفٹی آفیسر، ڈرگ انسپکٹر، اسسٹنٹ پروفیسر، لیکچرر، اسسٹنٹ انجینئر، فاریسٹ رینج آفیسر اور اسسٹنٹ فاریسٹ کنزرویٹر جیسے عہدوں کی بھرتیاں بھی اس فیصلے سے متاثر ہوئی تھیں۔
ملازمت حاصل کر چکے امیدوار بھی متاثر
درخواست گزاروں میں اودھیش کمار، دیپ مالا، سونم کماری اور سوربھ سنگھ سمیت دیگر کامیاب امیدوار شامل ہیں۔ عرضی میں کہا گیا کہ کئی امیدوار امتحان پاس کرنے کے بعد نہ صرف منتخب ہو چکے تھے بلکہ سرکاری ملازمت بھی جوائن کر چکے تھے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ اگر امتحانات یا بھرتی کے عمل میں کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی سزا تمام کامیاب امیدواروں کو نہیں دی جانی چاہیے۔ حکومت کے اچانک فیصلے سے ان کی ملازمت اور مستقبل دونوں غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو گئے تھے۔
طلباء کے احتجاج کے بعد معاملہ عدالت پہنچا
امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور منسوخی کے خلاف جھارکھنڈ میں طلباء اور امیدواروں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا تھا۔ حکومت نے تحقیقاتی رپورٹوں کی بنیاد پر بھرتی کے عمل کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن متاثرہ امیدواروں نے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کر دیا۔ہائی کورٹ کی جانب سے فی الحال منسوخی کے حکومتی حکم پر عبوری روک لگائے جانے کے بعد امیدواروں کو بڑی راحت ملی ہے۔ تاہم معاملے کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ آئندہ سماعتوں میں عدالت حکومت، تحقیقاتی رپورٹوں اور امیدواروں کے دلائل کا جائزہ لے گی۔فی الحال JPSC، JSSC اور ان سے متعلق ہزاروں امیدواروں کی نظریں ہائی کورٹ کی آئندہ کارروائی پر مرکوز ہیں۔