• News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • جسٹس یشونت ورما نے الہ آباد ہائی کورٹ سے دیا استعفیٰ

جسٹس یشونت ورما نے الہ آباد ہائی کورٹ سے دیا استعفیٰ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 10, 2026 IST

جسٹس یشونت ورما نے الہ آباد ہائی کورٹ سے دیا استعفیٰ
دہلی کے سرکاری رہائشی مکان سے بے شمار نقدی ملنے کے تنازع میں پھنسے جسٹس یشونت ورما نے الہ آباد ہائی کورٹ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے جمعہ کو صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔ ان پر الزامات کے بعد انہیں دہلی ہائی کورٹ سے الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کیا گیا تھا۔ جسٹس ورما فی الحال الزامات سے متعلق اندرونی تحقیق کا سامنا کر رہے ہیں۔
 
استعفیٰ میں کوئی وجہ نہیں بتائی گئی:
  
بتایا جا رہا ہے کہ بھارت کے صدر کو لکھے گئے اپنے استعفیٰ نامے میں جسٹس ورما نے عہدہ چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔ ہائی کورٹ سے استعفیٰ دینے کے بعد جسٹس ورما کو حاصل آئینی تحفظ ختم ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے اور گرفتاری کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ اقدامات تبھی مؤثر ہوں گے جب بھارت کے صدر ان کا استعفیٰ قبول کر لیں۔
 
جسٹس ورما کے خلاف الزامات کی تحقیق کر رہی پارلیمانی کمیٹی:
 
لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے جسٹس ورما کے خلاف مواخذے کی تحریک پر عمل کرتے ہوئے الزامات کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اروند کمار، بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شری چندر شیکھر اور سینئر ایڈووکیٹ بی واسودیو آچاریہ شامل ہیں۔ جسٹس ورما نے سپریم کورٹ میں کمیٹی کو چیلنج کیا تھا، لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
 
نقدی برآمد ہونے کا کیس کیا ہے؟  
 
دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس رہتے ہوئے جسٹس ورما کے سرکاری بنگلے کے سٹور روم میں 14 مارچ 2025 کو آگ لگ گئی تھی۔ ورما کی غیر موجودگی میں ان کے اہل خانہ نے فائر بریگیڈ اور پولیس کو بلایا۔ آگ بجھانے کے بعد ٹیم کو گھر سے بھاری مقدار میں نقدی ملی۔ اس کی اطلاع اس وقت کے چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) سنجیو کھنہ کو ہوئی تو انہوں نے کالجیم میٹنگ بلائی اور جسٹس ورما کا الہ آباد ہائی کورٹ میں تبادلہ کر دیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کی، جس نے جسٹس ورما کو قصوروار ٹھہرایا۔