کیرالہ میں اسمبلی انتخابات 2026 کے اختتام کے بعد سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے، اور آج پیر (4 مئی 2026) کو ووٹوں کی گنتی کا عمل صبح 8 بجے شروع ہو چکا ہے۔ 9 اپریل کو مکمل ہونے والے ان انتخابات کے بعد اب سب کی نظریں حتمی نتائج پر مرکوز ہیں، جو ریاست کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔
ایگزٹ پولز کے مطابق کانگریس کی قیادت والے متحدہ جمہوری محاذ (UDF) کو برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم حکمران لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (LDF) بھی سخت کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) ریاست میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے، جس سے مقابلہ مزید دلچسپ ہو گیا ہے۔
'آج کے چانکیا' کے ایگزٹ پول کے مطابق ووٹ شیئر میں ایل ڈی ایف کو 98 فیصد، یو ڈی ایف کو 40 فیصد، جبکہ بی جے پی کو 20 فیصد ووٹ ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ دیگر پارٹیوں کو 2 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔ تاہم یہ اعداد و شمار مجموعی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں اور اصل نتائج میں فرق ممکن ہے۔
سیٹوں کے حساب سے، 140 رکنی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے 71 نشستوں کی ضرورت ہے۔ اندازوں کے مطابق یو ڈی ایف 72 سے 80 سیٹیں حاصل کر سکتا ہے، جبکہ ایل ڈی ایف 58 سے 64 نشستوں کے درمیان رہ سکتا ہے۔ دیگر جماعتیں اور آزاد امیدوار تقریباً 7 نشستیں جیت سکتے ہیں۔ ایک اور سروے کے مطابق یو ڈی ایف کو 70–75 جبکہ ایل ڈی ایف کو 60–65 سیٹیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس سے ایک قریبی مقابلے کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔
وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے بھی دلچسپ مقابلہ جاری ہے۔ موجودہ وزیراعلیٰ پنارائی وجین کو 33 فیصد عوامی حمایت حاصل ہے، جبکہ کانگریس رہنما وی ڈی ستھیسن 22 فیصد حمایت کے ساتھ مضبوط دعویدار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
جیسے جیسے ووٹوں کی گنتی آگے بڑھے گی، تصویر مزید واضح ہوگی کہ آیا کیرالہ میں اقتدار کا توازن برقرار رہے گا یا کوئی بڑی سیاسی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔