مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کی ووٹوں کی گنتی کے دوران ابتدائی رجحانات نے ایک دلچسپ سیاسی منظرنامہ پیش کیا ہے۔ 12 بجے تک بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) اکثریت کے ہندسے کو عبور کرتی دکھائی دی، جس سے ریاست میں اس کی بڑی جیت کے امکانات ظاہر ہونے لگے۔
تاہم اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے اودھیش پرساد، جو سماج وادی پارٹی (SP) سے تعلق رکھتے ہیں، نے دعویٰ کیا کہ آخرکار ممتا بنرجی ہی بنگال میں کامیاب ہوں گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے انتخابات میں اپنی پوری طاقت جھونک دی اور مرکزی ایجنسیوں کے استعمال کے ذریعے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔
ایک انٹرویو میں اودھیش پرساد نے کہا کہ ان تمام کوششوں کے باوجود بنگال کے عوام جمہوریت کا تحفظ کریں گے اور ترنمول کانگریس (TMC) ایک بار پھر اقتدار میں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی عکاسی کرے گا۔
اس سے قبل اکھلیش یادو نے بھی ٹی ایم سی کی جیت کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا، "دیدی یہاں تھی، دیدی یہاں ہے، اور دیدی یہیں رہے گی"، جس سے اپوزیشن کی امیدیں واضح ہوتی ہیں۔
تازہ ترین رجحانات کے مطابق 12.18 بجے تک بی جے پی 173 نشستوں پر آگے ہے، جبکہ ٹی ایم سی 90 سیٹوں پر برتری رکھتی ہے۔ خاص طور پر بھبانی پور اسمبلی حلقہ میں ممتا بنرجی اور سویندو ادھیکاری کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے، جہاں دونوں امیدواروں کے درمیان برتری مسلسل بدل رہی ہے۔
جیسے جیسے گنتی کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، بنگال کی سیاست میں سنسنی خیز موڑ آتے جا رہے ہیں، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بی جے پی اپنی برتری برقرار رکھ پاتی ہے یا ٹی ایم سی ایک بار پھر اقتدار سنبھالنے میں کامیاب ہوتی ہے۔