جموں و کشمیر کے کلگام میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں موت کے بعد سوگ منانے کے لیے لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور سوگ منایا۔ اس موقع پرشیعہ برادری کے عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر جمع ہو ئے اور خامنہ ای کی موت پر سوگ منایا اور اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسرائیل اور امریکہ کے حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آغا سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر کے بعد پورے عالمِ اسلام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بڈگام میں بھی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی اور اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دیا۔ مظاہرے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور عالمِ اسلام سے اتحاد کی اپیل کرتے ہیں۔
کشمیر میں ان مظاہروں کے پیچھے گہری مذہبی اور سیاسی وجوہات ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کو کشمیر میں ایک اسلامی انقلابی اور فلسطین کے حامی رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایران کا کشمیر کے مسئلے پر طویل عرصے سے مؤقف اور حمایت رہی ہے، خاص طور پر شیعہ برادری اور ایران نواز گروہوں کے درمیان ان کی مقبولیت کافی زیادہ رہی ہے۔ انہیں اسلامی یکجہتی اور شیعہ مسلم کمیونٹی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
کشمیر میں ایران کے سپریم لیڈر کی موت کو محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ مذہبی اور سماجی جذبات سے جڑا ایک بڑا معاملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے وہاں کے لوگ اپنے غم و غصے اور احتجاج کا اظہار کر رہے ہیں، جو مستقبل میں خطے کی سیاست پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اسرائیل-امریکہ کا ایران پر بڑا حملہ
ہفتہ کے روز اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران پر شدید حملہ کیا۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے کئی افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کے تقریباً 40 اعلیٰ عہدیدار بھی ہلاک ہوئے ہیں، جن میں اعلیٰ کمانڈر شامل بتائے جاتے ہیں۔