Saturday, March 07, 2026 | 17 رمضان 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ڈونلڈ ٹرمپ کو قانون سازوں کی حمایت ، پارلیمنٹ سے ایران کے خلاف جنگ روکنے کا بل مسترد

ڈونلڈ ٹرمپ کو قانون سازوں کی حمایت ، پارلیمنٹ سے ایران کے خلاف جنگ روکنے کا بل مسترد

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Mar 05, 2026 IST

ڈونلڈ ٹرمپ کو قانون سازوں کی حمایت ، پارلیمنٹ سے  ایران کے خلاف جنگ روکنے کا بل مسترد
امریکی سینیٹ میں ریپبلکنز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ روکنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔جس میں 47 ووٹ مثبت اور 53 منفی آئے۔ اس قانون سازی کا مقصد کانگریس کی منظوری کے بغیر مزید حملوں کو روکنا تھا۔ووٹ زیادہ تر پارٹی لائن کے مطابق آیا، تاہم کینٹکی کے رینڈ پال نے حمایت کی اور پنسلو نیا کے ڈیموکریٹ جان فیٹر مین نے مخالفت کی۔ اس فیصلے کے بعد کانگریس میں ہنگامی مباحثے اور احتجاج دیکھنے میں آیا، اور ڈیموکریٹس نے کہا کہ صدر کی پالیسی خطرناک ہے اور مزید انسانی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
 
ووٹنگ کا نتیجہ:
 
بل کے خلاف 53 ووٹ پڑے جبکہ حق میں صرف 47 ووٹ تھے۔ کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کے ہلکے سے اکثریتی ہونے کی وجہ سے بل کی منظوری کی امیدیں پہلے ہی کم تھیں۔ ایک کے علاوہ تقریباً تمام ریپبلکن سینیٹرز نے بل کی مخالفت کی۔ کینٹکی کے ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے پارٹی لائن سے ہٹ کر بل کی حمایت کی۔ اسی طرح پنسلوانیا کے ڈیموکریٹک سینیٹر جان فیٹرمین کے علاوہ تقریباً تمام ڈیموکریٹس نے بل کی حمایت کی۔
 
بل میں کیا تجاویز تھیں؟
 
اگر یہ بل منظور ہو جاتا تو صدر ٹرمپ کو ایران پر کسی بھی بڑے حملے سے پہلے کانگریس کی منظوری لینی پڑتی۔ ڈیموکریٹس کا موقف تھا کہ ٹرمپ کی کارروائیاں کانگریس کے فوجی طاقت استعمال کرنے کے آئینی اختیار کی خلاف ورزی ہیں، کیونکہ ٹرمپ کے پاس واضح حکمت عملی کا فقدان تھا اور انہوں نے ماضی کے کئی وعدوں کی طرح ایک اور وعدہ توڑا ہے۔
 
امریکی صدر  کا بیان:
 
 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے جاری کشیدگی پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ جنگی محاذ پر بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے اور ایران گزشتہ 47 برسوں سے امریکہ کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا ہوا تھا۔واشنگٹن میں ٹرمپ نے اپنے بیان میں   کہا کہ جب  انتہاپسند یا غیر ذمہ دار لوگ جوہری ہتھیاروں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے امریکہ ایران کے معاملے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی حکمت عملی کا مقصد عالمی سلامتی کو یقینی بنانا اور ایسے خطرات کو روکنا ہے جو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے پیدا ہو سکتے ہیں۔