جگرسروسس(لِوَر سروسس)اور(جگر کی ناکامی )لِوَرفیلئر کو عام طور پرلاعلاج سمجھا جاتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماریاں اگرچہ سنگین ہیں لیکن بروقت تشخیص اور مناسب علاج کے ذریعے نہ صرف قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ بلکہ کئی مریض نارمل زندگی بھی گزارسکتے ہیں۔ یہی بات منصف ٹی وی کے معروف پروگرام“ہیلتھ اور ہم”میں ساؤتھ ایشین لیور انسٹی ٹیوٹ کے بانی اور سینئر لیور ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر ٹام چیرین نےکی۔
لِوَرسروسس کی علامات
اس خصوصی پروگرام میں ساؤتھ ایشین لیور انسٹی ٹیوٹ کے بانی اور سینئر لیور ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر ٹام چیرین نے لِوَر سروسس، لِوَر فیلئر اور لِوَر ٹرانسپلانٹ سے متعلق اہم معلومات فراہم کیں۔ ڈاکٹر ٹام چیرین نے بتایا کہ لِوَر سروسس ایک ایسی حالت ہے جس میں جگر کے صحت مند خلیے آہستہ آہستہ خراب ہو کر اسکار ٹشو میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں اس کی علامات واضح نہیں ہوتیں، لیکن جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے، پیٹ میں پانی بھرنا، خون کی الٹی، بے ہوشی اور دیگر سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جسے اینڈ اسٹیج لیور ڈیزیز یا لِوَر فیلئر کہا جاتا ہے۔
لِوَرسروسس کی کی بڑی وجہ
انہوں نے وضاحت کی کہ بھارت میں لِوَر سروسس کی سب سے بڑی وجہ فیٹی لیور ڈیزیز ہے، جبکہ الکحل کا زیادہ استعمال اور وائرل ہیپاٹائٹس بھی اہم اسباب میں شامل ہیں۔ یہ عام تاثر کہ لِوَر کی بیماری صرف شراب نوشی سے ہوتی ہے، بالکل غلط ہے، کیونکہ بچوں سمیت بڑی تعداد میں مریض ایسے ہیں جنہیں یہ مسئلہ دیگر وجوہات سے لاحق ہوتا ہے۔
علاج کے مراحل
ڈاکٹر ٹام چیرین کے مطابق ابتدائی مرحلے میں مریضوں کا علاج ادویات، متوازن غذا، وزن میں کمی اور طرزِ زندگی میں بہتری کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ تاہم جب بیماری خطرناک حد تک بڑھ جائے اور بار بار پیچیدگیاں پیدا ہوں تو لِوَر ٹرانسپلانٹ سب سے مؤثر علاج ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید ٹرانسپلانٹ کے بعد مریضوں کی بقا کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہے اور زیادہ تر مریض دوبارہ کام پر واپس آ جاتے ہیں۔
لِوَرکوصحت مند رکھنےکی کنجی کیا ہے۔
عوام کو مشورہ دیا کہ لِوَر سے متعلق علامات کو نظر انداز نہ کریں، خود علاج یا غلط معلومات پر یقین نہ کریں اور بروقت ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ صحت مند غذا، الکحل سے پرہیز، باقاعدہ فالو اپ اور آگاہی ہی لِوَر کو صحت مند رکھنے کی کنجی ہے۔ڈاکٹر سے مکمل بات چیت یہاں دیکھ سکتےہیں۔