اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں پیر کوایک بڑا آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔ یہ حادثہ علی گنج علاقے میں ایک کوچنگ کم گیمنگ انسٹی ٹیوٹ میں پیش آیا۔گھنے دھوئیں اور آگ کے شعلوں نے عمارت کو گھیرے میں لے لیا، جس نے اندر موجود لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کچھ طلباء نے اپنی جان بچانے کے لیے عمارت کی پہلی منزل سے نیچے چھلانگ لگا دی۔ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور پولیس کے عملے نے موقع پر پہنچ کر جنگی بنیادوں پر امدادی کاروائیاں شروع کر دیں۔
شمال مغربی لکھنؤ کےعلی گنج علاقے میں پیر کو ایک کوچنگ سینٹر والی عمارت میں زبردست آگ لگنے سے کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ کئی لوگ آگ میں پھنس گئے اور کچھ طلباء نے پہلی منزل سے چھلانگ لگا دی۔ ایک تجارتی علاقے میں واقع اس عمارت میں کوچنگ سینٹر کے علاوہ پالتو جانوروں کی دکان اور دیگر اسٹورز ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ کئی لوگوں نے مرکز سے چھلانگ لگا دی، جو کہ پہلی منزل پر ہے، اور ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص فرار ہونے کی کوشش میں گر گیا۔ایک ویڈیو میں اس شخص کو عمارت کی ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ آدمی ایک کنارے پر لٹکنے کی کوشش کیا، زمین سے ٹکرانے سے پہلے باڑ پر گر گیا ہے۔ کچھ لوگ اس کی مدد کرتے ہوئے اور اسے محفوظ مقام پر لے جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اسے چوٹیں آئیں اور اس کا علاج چل رہا ہے۔
پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا۔ نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا تاکہ بچاؤ کی کوششوں کی نگرانی کی جا سکے۔
اس واقعہ پر غم کا اظہار کرتے ہوئے، پی ایم مودی نے مرنے والوں کے لواحقین کو وزیر اعظم کے قومی ریلیف فنڈ سے ہر ایک کو 2 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے زخمیوں کے لیے 50,000 روپے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
اتر پردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اس واقعہ پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام کو فوری طور پر موقع پر پہنچنے اور امدادی کاروائیوں کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرین کو تمام ضروری مدد فراہم کی جائے۔
فائر فائٹرز اس وقت کولنگ آپریشن کر رہے ہیں اور عمارت میں پھنسے کسی اور کی تلاش کررہے ہیں۔ حادثے کی اصل وجہ کا ابھی پتہ نہیں ہو سکا ہے۔ حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اس بات کا تعین کرنے کے لیے بھی تحقیقات کی جائیں گی کہ آیا کسی حفاظتی ضابطے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔