بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلسل ملک میں مذہب کے نام پرسیاست عام ہو چکا ہے۔ یہ کسی سے عیاں نہیں کہ آسام کے سی ایم،جو مسلسل مسلم مخالف بیان دے کر نفرت کو فروغ دے رہے ہیں۔بی جے پی پر یہ الزام بھی عام ہے کہ وہ ملک کی عوام کو حقیقی مسائل سے بھٹکانے کے لیے ایسے قوانین لاتی ہے جو خود میں ایک تنازع ہے۔
حالیہ دنوں میں مرکز کی مودی حکومت یو ایس-انڈیا ٹریڈ ڈیل، بجٹ، چین کے ساتھ سرحدی تنازع، ایپسٹین فائلز، بے روزگاری اور دیگر بنیادی مسائل پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے تھی، لیکن مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ملک بھر میں متنازع 'وندے ماترم' کو لازمی قرار دینے کا اعلان کر کے ہلچل مچا دی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس فیصلے کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر لوگوں نے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے والا ایجنڈا قرار دیا ہے۔ سہارنپور سے کانگریس کے سانسد عمران مسعود نے بھی 'وندے ماترم کی لازمیت' پر سوال اٹھاتے ہوئے بڑا بیان دیا ہے۔ 'وندے ماترم' گانے کے معاملے پر عمران مسعود نے واضح طور پر کہا کہ وہ وندے ماترم کا احترام کرتے ہیں اور اس کے احترام میں کھڑے بھی ہو جائیں گے، لیکن کسی کو بھی اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
وندے کے دوران کھڑا ہو جاؤں گا، لیکن گاؤں گا نہیں:
اس موقع پر کانگریس سانسد عمران مسعود نے کہا، وندے ماترم کے دوران احترام میں میں کھڑا ہو جاؤں گا، لیکن گاؤں گا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وندے ماترم قومی گیت ہے اور اس کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے، لیکن کسی بھی شہری کو اسے گانے پر مجبور کرنا درست نہیں ہے۔ سانسد عمران مسعود کے مطابق، احترام اور مجبوری میں فرق ہوتا ہے اور جمہوری ملک میں لوگوں کی ذاتی عقیدت اور آزادی کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے۔ عمران مسعود نے اس مسئلے پر جمعیت علمائے ہند کے سربراہ ارشد مدنی کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو کہا ہے، وہ درست ہے۔
مسلمانوں پر ہندو میتھالوجی اور کلچر مسلط کیا جا رہا ہے:
انڈین یونین مسلم لیگ نے وندے ماترم کو لازمی قرار دینے پر این ڈی اے کی قیادت والی مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انڈین مسلم لیگ کے قومی نائب صدر مولانا کوسر حیات خان نے الزام لگایا کہ قومی گیت کو لازمی بنانے کے نام پر مسلمانوں پر زبردستی ہندو میتھالوجی اور کلچر تھوپنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے وہ قبول نہیں کرتے۔
مودی حکومت کے ذریعے قومی گیت وندے ماترم کی لازمیت پر جہاں جمعیت علمائے ہند نے اپنا احتجاج درج کرایا ہے، وہیں انڈین یونین مسلم لیگ نے اس فیصلے پر بی جے پی پر شدید تنقید کی ہے۔ پارٹی کے قومی نائب صدر مولانا کوسر حیات خان نے کہا کہ مسلمانوں پر زبردستی ہندو میتھالوجی اور ہندو کلچر تھوپنے کی تیاری چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وندے ماترم کی مخالفت کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ بھارت کی آزادی سے پہلے سے اس کی مخالفت ہوتی آ رہی ہے اور مسلمان اسے کسی بھی حالت میں قبول نہیں کرتے، کیونکہ ان کے مطابق اس میں اسلام کے خلاف لائنیں ہیں۔