Monday, August 24, 2026 | 09 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • میرٹھ سے دیوبند جا رہے مدرسہ طالب علم پر ٹرین میں حملہ، تشدد اور لوٹ مار کا الزام

میرٹھ سے دیوبند جا رہے مدرسہ طالب علم پر ٹرین میں حملہ، تشدد اور لوٹ مار کا الزام

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 24, 2026 IST

میرٹھ سے دیوبند جا رہے مدرسہ طالب علم پر ٹرین میں حملہ، تشدد اور لوٹ مار کا الزام
اترپردیش کے میرٹھ ضلع سے ایک تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں زین پور سے دیوبند میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ٹرین کے ذریعے سفر کر رہے ایک مدرسہ طالب علم محمد منتظر پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔ الزام ہے کہ ٹرین میں کچھ افراد نے انہیں گھیر کر بدسلوکی اور تشدد کیا، جس کے باعث وہ زخمی ہوگئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، محمد منتظر میرٹھ سے دیوبند جانے کے لیے ٹرین میں سوار ہوئے تھے۔ سفر کے دوران مبینہ طور پر کچھ افراد ان کے قریب آئے اور انہیں گھیر لیا۔ الزام ہے کہ اس دوران ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور مارپیٹ بھی کی گئی۔ متاثرہ طالب علم کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ مبینہ حملہ آوروں نے انہیں زبردستی شراب پلانے کی کوشش کی۔
 
تشدد کے دوران زخمی ہونے کا دعویٰ
 
اس حملے میں محمد منتظر کے جسم پر چوٹیں آئیں۔ واقعے کے بعد ان کی حالت ایسی تھی کہ انہیں سفر جاری رکھنا مشکل ہوگیا۔ وہ زخمی حالت میں کھتولی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین سے اتر گئے۔ اس واقعے میں صرف تشدد ہی نہیں بلکہ سامان چھیننے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ محمد منتظر کے مطابق، مبینہ حملہ آور ان کا موبائل فون اور گھڑی بھی چھین کر لے گئے۔ اس دعوے کے بعد معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے۔
 
حملہ آور کون تھے؟
 
فی الحال یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ محمد منتظر پر حملہ کرنے والے افراد کون تھے اور انہوں نے انہیں کیوں نشانہ بنایا۔ یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ حملے کے وقت ٹرین میں موجود دیگر مسافروں یا ریلوے عملے نے کیا کارروائی کی۔ واقعے کی مکمل حقیقت متاثرہ طالب علم کے بیان، ممکنہ عینی شاہدین، ریلوے اسٹیشن اور ٹرین سے متعلق دستیاب شواہد اور پولیس تحقیقات کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔
 
دینی تعلیم کے لیے دیوبند جا رہے تھے, محمد منتظر
 
محمد منتظر میرٹھ کے زین پور سے تعلق رکھتے ہیں اور دیوبند میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے سفر کر رہے تھے۔ اس واقعے نے ٹرینوں میں مسافروں کی حفاظت اور ایسے مبینہ جرائم کے خلاف فوری کارروائی کے حوالے سے بھی سوالات کھڑے کیے ہیں۔ اب سب سے اہم سوال یہی ہے کہ محمد منتظر پر مبینہ حملہ کس نے کیا، حملے کی وجہ کیا تھی اور کیا موبائل فون و گھڑی واقعی چھینی گئی؟ اگر الزامات کی تصدیق ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہوگی۔ فی الحال معاملے کی مکمل تصویر تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔