راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں یکساں سول کوڈ (UCC) کے خلاف مسلم تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مارچ نکالا گیا۔ ایم ڈی روڈ پر واقع مسافر خانہ سے شروع ہونے والے اس احتجاج میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے یو سی سی سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اپنے مطالبات پر غور کرنے کی اپیل کی۔ احتجاج کے پیش نظر پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ مارچ جب موتی ڈونگری روڈ چوراہے کے قریب پہنچا تو پولیس نے رکاوٹیں لگا کر مظاہرین کو مزید آگے بڑھنے سے روک دیا۔ پولیس کی جانب سے علاقے میں اضافی نفری بھی تعینات کی گئی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
پولیس کی جانب سے مارچ کو آگے بڑھنے سے روکے جانے کے بعد مظاہرین نے موقع پر ہی اپنی بات حکام تک پہنچائی۔ احتجاج میں شامل نمائندوں نے متعلقہ حکام کو ایک میمورنڈم پیش کیا، جس میں یکساں سول کوڈ کے حوالے سے اپنی تشویش اور مطالبات درج کیے گئے تھے۔ احتجاج کے دوران صورتحال مجموعی طور پر قابو میں رہی اور کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ میمورنڈم پیش کرنے کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔
احتجاج کے دوران جماعت اسلامی ہند، راجستھان کے ریاستی صدر محمد ناظم الدین نے یو سی سی پر اعتراضات کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یکساں سول کوڈ آئین کی بنیادی روح کے خلاف ہے اور اس کے نفاذ سے ملک کے ثقافتی اور مذہبی تنوع پر اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان مختلف مذاہب، روایات اور ثقافتوں کا ملک ہے اور مختلف برادریوں کے مذہبی و شخصی معاملات سے متعلق حساسیت کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
جے پور میں ہونے والے اس احتجاج کے ذریعے مسلم تنظیموں نے یو سی سی کے خلاف اپنا موقف حکومت تک پہنچانے کی کوشش کی۔ مظاہرین کی جانب سے پرامن طریقے سے احتجاج ختم کیے جانے کے بعد انتظامیہ نے بھی راحت کی سانس لی۔ یو سی سی کو لے کر ملک میں مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں پہلے ہی بحث جاری ہے۔ ایک طرف اس کے حامی اسے قانونی یکسانیت کی جانب قدم قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے مذہبی آزادی اور مختلف برادریوں کے شخصی قوانین متاثر ہوسکتے ہیں۔ جے پور کا یہ احتجاج بھی اسی جاری بحث کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔