مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو لے کر ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی باضابطہ طور پر دعوت دی گئی ہے۔ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب پہلے ہی اس معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے اس تجویز پر فی الحال غور کیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ سے وابستہ خبر رساں ادارے کے سربراہ مہدی رحیمی نے بتایا کہ تہران کو معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت موصول ہوئی ہے، تاہم ایرانی حکام اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کو خطے میں دفاعی تعاون بڑھانے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی جانب سے بھی مستقبل میں اس معاہدے کا حصہ بننے کے امکان پر بات سامنے آئی ہے۔
اسی دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر ہیں۔ ان کے دورے کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، دستیاب اطلاعات کے مطابق ان کے دورے کا بنیادی مقصد خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون پر زور دینا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر Masoud Pezeshkian(مسعود پزشکیان) نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایرانی عوام کے اتحاد اور مزاحمت کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کو وینزویلا جیسی صورتحال سے دوچار کرنے کی کوشش کی، لیکن ایرانی عوام نے متحد ہوکر اس کا مقابلہ کیا۔ Masoud Pezeshkian(مسعود پزشکیان) نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھیں۔ ان کے مطابق، باہمی اتحاد اور قیادت کے ساتھ کھڑے رہنے کی صورت میں کوئی طاقت ایران کو جھکنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقے کے طور پر پیش کرنے والے بیانات نے بھی خطے میں تشویش بڑھا دی ہے۔ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایسی تصویر بھی شیئر کی جس میں آبنائے ہرمز کو نئے امریکی علاقے کے طور پر دکھایا گیا۔ ایران نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر اس کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی امریکی دعوے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے ایسے دعوے خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے حوالے سے اس کی خواہشات کو ظاہر کرتے ہیں۔
مکہ دفاعی معاہدے میں ایران کی ممکنہ شمولیت اور خطے کے دیگر ممالک کی دلچسپی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ، ایران اور دیگر طاقتوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اگر ایران بھی اس معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو یہ خطے کی دفاعی اور سفارتی صف بندی میں ایک اہم تبدیلی ثابت ہوسکتی ہے۔