مغربی بنگال کے ضلع کے مالدہ میں گزشتہ ماہ پیش آئے ایک متنازع واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ انتخابی عمل سے متعلق ڈیوٹی انجام دینے والے عدالتی افسران کو مبینہ طور پر سڑک بندش کے دوران کئی گھنٹوں تک روکے جانے کے معاملے میں National Investigation Agency نے خصوصی کارروائی کرتے ہوئے 15 افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم کے دوران پیش آیا، جو اسمبلی انتخابات سے قبل انتخابی تیاریوں کا حصہ سمجھی جا رہی تھی۔ الزامات کے مطابق کچھ مقامات پر سڑکیں بند کی گئیں اور انتخابی ڈیوٹی انجام دینے والے عدالتی افسران کی نقل و حرکت متاثر ہوئی۔
این آئی اے کے مطابق گرفتاریاں دو الگ مقدمات کے تحت کی گئی ہیں۔ پہلے مقدمے میں 12 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں مبینہ طور پر مرکزی ملزم دو مسلمانوں کو بنایا گیا ہیں۔ الزام ہے کہ ایک خاتون عدالتی افسر، جو انتخابی ذمہ داری پر تعینات تھیں، کو ہیبت تولہ اور املیٹولا کے درمیان کئی گھنٹوں تک روکے رکھا گیا۔
دوسرے کیس میں موتھا باڑی بلاک کے باگمارا پل کے قریب سڑک بند کرنے کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کیا گیا، جن کی شناخت عالمگیر شیخ، نورالاسلام اور حبیب الرحمان کے طور پر کی گئی ہے۔
یہ معاملہ بعد میں قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا، جس کے بعد این آئی اے نے تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ اطلاعات کے مطابق معاملے کی سنگینی کے پیش نظر Election Commission of India کے دائرۂ کار میں بھی اس پر توجہ دی گئی جبکہ Supreme Court of India نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیا۔
این آئی اے کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے اور تفتیش اس پہلو سے بھی کی جا رہی ہے کہ آیا ان واقعات کے پیچھے کوئی منظم منصوبہ بندی یا بڑا نیٹ ورک موجود تھا۔ حکام کے مطابق مزید افراد کی شناخت اور ممکنہ گرفتاریوں کے لیے کارروائی جاری رہے گی۔