اترپردیش کے غازی آباد میں جمعہ کی دیر رات ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی اور بڑی بیٹی کو چاقو سے حملہ کرکے قتل کر دیا۔ حملے میں اس کی سب سے چھوٹی بیٹی بھی زخمی ہوئی، تاہم وہ کسی طرح وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب رہی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ملزم کی پہنچان راجا انصاری کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ مقتولین میں اس کی بیوی، تبسم اور بڑی بیٹی ثناء شامل ہیں۔ چھوٹی بیٹی روبی جن بچا کر بھاگنے میں کامیاب تو ہوئی، لیکن فرار ہونے کی کوشش کے دوران اسے شدید چوٹیں آئیں جس کے بعد اسے علاج کے لیے اسپتال متقل کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، پولیس کو رات تقریباً 12:15 بجے اطلاع ملی کہ لوک پریہ وہار کی لین نمبر 3 میں ایک شخص نے اپنی بیوی اور بیٹی پر حملہ کیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور اندراپورم کے اے سی پی سوریہ بالی موریہ پولیس ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ راجا انصاری، جو اصل میں بہار کے ارریہ کا رہنے بتایا گیا ہے، اپنی بیوی اور دونوں بیٹیوں کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہتا تھا اور دہلی میں اکاؤنٹنٹ کے طور پر کام کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق، چاقو کے حملے میں تبسم اور ثناء کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ زخمی روبی کو فوری طور پر ایم جی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال وہ خطرے سے باہر ہے۔دونوں لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس نے ملزم راجا کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ تاہم، قتل کے اصل وجہ ابھی سامنے نہیں آئے ہیں۔ پولیس اس بات کی تفشیش کر رہی ہے کہ واقعے سے پہلے گھر میں کسی قسم کا تنازع یا خاندانی کشیدگی تھی یا نہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران ملزم کے بیانات، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ایک ہی خاندان کے اندر اس طرح کا خونریز واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آخر وہ کون سی وجہ تھی جس نے ایک گھر کو چند لمحوں میں ماتم کدے میں تبدیل کر دیا؟