مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جنگ آج پانچویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔ یہ سب 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہوا، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد سے حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ ایران نے جوابی حملے شروع کیے، خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور سفارت خانوں پر ڈرون اور میزائل داغے۔ اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ ایران میں ہلاکتوں کی تعداد اب 742 سے تجاوز کر گئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد ایران میں تباہی
امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں آپریشن ایپک فیوری شروع کیا۔ اسرائیل کے F-35 اور امریکی B-2 بمبار طیاروں نے ایرانی جوہری مقامات، بیلسٹک میزائل اڈوں اور قیادت کے اہداف پر حملہ کیا۔ تہران میں خامنہ ای کے گھر کو نشانہ بنایا گیا، اور ایرانی میڈیا نے ان کی موت کی تصدیق کی۔ پہلے دن ایران میں تقریباً 200 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر فوجی اہلکار تھے۔ امریکہ نے کہا کہ یہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ بعد ازاں اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ کارروائی ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو روکنے کے لیے ضروری تھی۔ امریکی صدر نے بھی اسے دفاعی اقدام قرار دیا۔ اطلاعات کے مطابق 500 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور جوابی میزائل حملے
ایران کی (IRGC) نے قطر، کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا۔ متحدہ عرب امارات کے شہروں دبئی اور ابوظہبی میں بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس راستے سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل رسد کے تقریباً 20 فیصد حصے کے لیے نہایت اہم ہے۔
لبنان میں اسرائیلی حملوں میں شدت
اسرائیل نے بیروت اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے مراکز پر فضائی حملے بڑھا دیے۔ متعدد تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ بعض کمانڈروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ ادھر ایران نے ریاض میں امریکی سفارت خانے کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ امریکہ نے بحرین، کویت اور مصر سمیت 14 ممالک میں اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔