Sunday, April 26, 2026 | 08 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • مشرق وسطی کشیدگی:ایران کو امریکی شرائط منظور نہیں!ایرانی صدر کا واضح پیغام

مشرق وسطی کشیدگی:ایران کو امریکی شرائط منظور نہیں!ایرانی صدر کا واضح پیغام

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 26, 2026 IST

مشرق وسطی کشیدگی:ایران کو امریکی شرائط  منظور نہیں!ایرانی صدر کا واضح پیغام
امریکہ امن مذاکرات کے لیے ایران سے بات کرنا چاہتا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ خلیج فارس میں اپنی بحری ناکہ بندی بھی جاری رکھنا چاہتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جب تک ڈیل پکی نہیں ہو جاتی، تب تک ناکہ بندی جاری رہے گی۔ اس دوران ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے فون پر بات کرتے ہوئے یہ صاف کہا ہے کہ ایران دھمکیوں، گھیرا بندی اور دباؤ کے تحت مذاکرات میں شامل نہیں ہو گا۔
 
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ اپنی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران، پزیشکیان نے امن مذاکرات اور جنگ بندی دونوں ادوار کے دوران امریکہ کی جانب سے مسلسل کی جانے والی خلاف ورزیوں اور زبردستی والے رویے کی مذمت کی۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران پر امریکہ کی نام نہاد بحری ناکہ بندی جنگ بندی کی مفاہمت کی واضح خلاف ورزی ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق نہیں ہے۔
 
پزیشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف ایسے اقدامات (بحری ناکہ بندی) اور دھمکی آمیز بیان بازی امریکہ کے سفارتی عمل کے تئیں عزم پر شکوک و شبہات بڑھا رہی ہے۔ پزیشکیان نے اپنے ملک کی حفاظت کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور امریکہ-اسرائیل کی جانب سے کسی بھی نئے تصادم کے علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے ہونے والے تمام ممکنہ نتائج سے خبردار کیا۔
 
انہوں نے مزید زور دیا کہ ایران اچھے پڑوس اور باہمی احترام کی بنیاد پر، خلیج فارس کے جنوبی ساحلوں پر واقع ممالک سمیت، تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بنانے اور انہیں مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ممالک بھی بیرونی مداخلت سے آزاد ہو کر، علاقائی امن اور سلامتی کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔
 
 عباس عراقچی نے مصر کے وزیر خارجہ سے بات کی:
 
اسی دوران، ایرانی خبر رساں ایجنسی ISNA نے بتایا کہ ملک کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے مصری ہم منصب بدر عبدالعطی کے ساتھ سفارت کاری اور جنگ بندی سے متعلق مسائل کے ساتھ ساتھ علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اتوار (26 اپریل) کو ISNA کی رپورٹ کے مطابق عراقچی نے ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے بھی بات کی اور کل رات فون پر مشاورت اور گفتگو کی۔
 
 ایران سے کیا چاہتا ہے امریکہ؟
 
امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام معطل کر دے، لیکن ایران نے کہا ہے کہ یہ پابندی صرف محدود مدت کے لیے ہونی چاہیے۔ امریکہ ایران کے 400 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو اپنی تحویل میں لینا چاہتا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق تہران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔