Sunday, April 26, 2026 | 08 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • جے ای ای مین میں اقلیتی گروکل طلبہ کی شاندار کامیابی

جے ای ای مین میں اقلیتی گروکل طلبہ کی شاندار کامیابی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 26, 2026 IST

جے ای ای مین میں اقلیتی گروکل طلبہ کی شاندار کامیابی
  •  اقلیتی گروکل:105 میں سے 35 لوگوں نے کوالیفائی کیا
  • سات نے  90 فیصد سےزائد ، 16 نے 80 فیصد سے زیادہ اسکور کیا
  • گروکل کے طلباء کی صلاحیتوں کا موازنہ کارپوریٹ کالجوں سے کیا جاسکتا
 
جے ای ای مین 2026 کے نتائج میں اقلیتی گروکل (ریزیڈینشل) تعلیمی اداروں کے طلبہ نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ان طلبہ نے نہ صرف بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا بلکہ کارپوریٹ کالجوں کے طلبہ کو بھی سخت مقابلہ دیا۔
 
تفصیلات کے مطابق ریاست بھر کے اقلیتی سینٹر آف ایکسیلنس (COE) اور دیگر کالجوں سے تعلق رکھنے والے 105 طلبہ نے جے ای ای مین امتحان میں شرکت کی، جن میں سے 35 طلبہ نے کامیابی حاصل کی۔ ان کامیاب طلبہ میں 7 نے 90 فیصد سے زائد پرسنٹائل حاصل کیا جبکہ 16 طلبہ نے 80 فیصد سے زیادہ اسکور درج کیا۔
 
مختلف زمروں کے لحاظ سے کامیابی کی شرح بھی قابلِ ذکر رہی، جہاں جنرل کیٹیگری میں 93.42 فیصد، ای ڈبلیو ایس میں 82.42 فیصد، او بی سی میں 80.92 فیصد، ایس سی میں 63.9 فیصد اور ایس ٹی میں 52.01 فیصد طلبہ کامیاب رہے۔
 
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی ریاست میں قائم اقلیتی گروکل اداروں میں فراہم کی جانے والی معیاری تعلیم، تجربہ کار اساتذہ اور جدید سہولیات کا نتیجہ ہے۔ ان اداروں کا قیام سابق حکومت کے دور میں عمل میں آیا تھا تاکہ معاشی طور پر کمزور طبقات کے طلبہ کو کارپوریٹ سطح کی تعلیم فراہم کی جا سکے۔
 
ریاست بھر میں اس وقت تقریباً 204 اقلیتی رہائشی اسکول کام کر رہے ہیں، جہاں لگ بھگ 1.20 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ہر طالب علم پر سالانہ تقریباً 1.25 لاکھ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں بہتر تعلیم، رہائش اور خوراک کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
 
ان اداروں کے طلبہ نہ صرف بورڈ امتحانات بلکہ مسابقتی امتحانات جیسے ایپ سیٹ، گروپس اور بینکنگ میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ کئی طلبہ انجینئرنگ اور میڈیکل کے شعبوں میں اعلیٰ مقام حاصل کر چکے ہیں، جو اس تعلیمی نظام کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔