دارالحکومت دہلی میں گلاب بیچنے والی 10 سال کی لڑکی سے جنگل میں ریپ کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد لوگوں میں کافی غصہ ہے ،اسی بیچ ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی نے مرکزی حکومت پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ دہلی بھارت کا ’ریپ کیپیٹل‘ بنتا جا رہا ہے اور یہ واقعہ نربھیا کیس کا المناک ری پلے ہے۔
ابھیشیک بنرجی نے کہا، 'وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ بنگال میں آکر تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ شاید وہ تبدیلی پہلے بی جے پی کی حکمرانی والے ریاستوں میں ہی شروع ہونی چاہیے۔ جس حکومت میں خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کی صلاحیت نہیں ہے، جو صاف ہوا اور پانی کی فراہمی نہیں کر سکتی، یا مہلک دھماکوں کو روک نہیں سکتی، اس حکومت کو بنگال میں آکر ووٹ مانگنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
دراصل، ایک نابالغ لڑکی جو ، دہلی کے ایک ٹریفک سگنل پر گلاب بیچتی تھی۔ الزام ہے کہ ایک ای رکشہ ڈرائیور نے دس سالہ بچی کو اغوا کیا۔ پھر بلکا پور نامی ایک جگہ پر چائے پلانے کے بہانے وہ اسے جنگل میں لے گیا اور اس کا ریپ کیا۔ ملزمان متاثرہ کو بے ہوش چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ 10 جنوری کو پیش آیا۔
متاثرہ نے پولیس کو دیا بیان:
پولیس تفتیش میں متاثرہ نے بتایا کہ ملزم اسے جنگل میں لے گیا تھا۔ وہاں ایک کمرے میں اس کے ساتھ ریپ کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ خون سے لت پت اور بے ہوشی کی حالت میں نابالگ لڑکی کو مردہ سمجھ کر ملزم وہاں سے بھاگ گیا۔ ہوش آنے پر نابالگ کسی طرح گھر لوٹ آئی۔خاندان کے افراد اسے ہسپتال لے گئے۔ تھانے میں بھی شکایت درج کرائی گئی۔ متاثرہ کے بیان کے بعد پولیس نے پوسکو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔