Saturday, April 11, 2026 | 22 شوال 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • مغربی بنگال میں یو سی سی نافذ کرنے مودی کا اعلان۔ ٹی ایم سی پر سخت حملہ

مغربی بنگال میں یو سی سی نافذ کرنے مودی کا اعلان۔ ٹی ایم سی پر سخت حملہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 11, 2026 IST

مغربی بنگال میں یو سی سی نافذ کرنے مودی کا اعلان۔ ٹی ایم سی پر سخت حملہ
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی  نے مغربی بنگال میں ہونے والے 2026 اسمبلی انتخابات سے قبل اپنی انتخابی مہم کو تیز کرتے ہوئے   یونیفارم سول کوڈ (UCC) نافذ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاست میں "مصالحتی سیاست" کا خاتمہ کرے گی اور بنگالیوں کو اقلیت میں تبدیل نہیں ہونے دے گی۔

 ٹی ایم سی پر لگایا الزام 

مرشد آباد کے جنگی پور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ یہ انتخابات مغربی بنگال کی شناخت اور مستقبل کو بچانے کی لڑائی ہیں۔ انہوں نے حکمران All India Trinamool Congress (ٹی ایم سی) پر الزام لگایا کہ وہ دراندازوں اور ووٹ بینک کی سیاست کے سہارے اقتدار میں رہنا چاہتی ہے۔

 ریاست میں (یو سی سی) یکساں سول کوڈ کا ہوگا نفاذ

مودی نے کہا کہ قومی سلامتی بی جے پی کی اولین ترجیح ہے اور پارٹی ریاست میں یو سی سی نافذ کر کے امتیازی سیاست کو ہمیشہ کے لیے ختم کرے گی۔ یہ بیان ایک دن بعد آیا جب مرکزی وزیر داخلہ Amit Shah نے پارٹی منشور جاری کرتے ہوئے چھ ماہ کے اندر یو سی سی نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

 مصالحتی ووٹ بینک کی سیاست کا الزام 

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ریاست کے کئی علاقوں میں تیزی سے آبادیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور ٹی ایم سی نے اپنے پرانے نعرے "ماں، مٹی، مانُش" کو ترک کر دیا ہے۔ مودی نے کہا کہ "مغربی بنگال اب مصالحتی اور ووٹ بینک کی سیاست کو برداشت نہیں کرے گا۔"

 بدعنوانی کو فروغ دینے کا الزام 

ریاست  مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی  کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ٹی ایم سی اب بائیں بازو کی حکومت کا "کاربن کاپی" بن چکی ہے اور دھمکی، بھتہ خوری اور بدعنوانی کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔

حکومت کی سرپرستی میں تشدد

انہوں نے رام نومی جلوسوں کے دوران ہونے والے تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاست میں ایسے واقعات کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے عوام کو اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز سے محتاط رہنے کی بھی تلقین کی۔

انتخابات ترقی کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوں گے

مودی نے بدعنوانی میں ملوث افراد کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آئی تو کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات مغربی بنگال کے مستقبل، شناخت اور ترقی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

 مغربی بنگال میں  بدعنوانی اور ’’سنڈیکیٹ راج‘‘

مودی نے دعویٰ کیا کہ جب کہ مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے تحت 25 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو غربت سے نکالا گیا ہے، وہیں مغربی بنگال میں لوگوں کو پریشانی میں دھکیلا جا رہا ہے کیونکہ سرمایہ کاری اور صنعتیں ریاست کو چھوڑ رہی ہیں۔ انھوں نے "ٹی ایم سی کی بدعنوانی اور 'سنڈیکیٹ راج' کی وجہ سے، ہزاروں کمپنیاں مغربی بنگال چھوڑ چکی ہیں۔ ریاست میں کوئی نئی صنعت نہیں آ رہی ہے۔ ہزاروں ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں اور نوجوان دوسری ریاستوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں"۔

4مئی کےبعد بنگال میں تبدیلی 

انہوں نے اپنی ریاست گجرات میں بھی مغربی بنگال میں اپنی انتخابی ریلیوں میں آنے والے لوگوں کا جوش اور ولولہ کبھی نہیں دیکھا۔ وزیر اعظم نے آج دوپہر مشرقی بردھمان ضلع میں ایک انتخابی مہم کی میٹنگ سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں دوپہر 12 بجے بھی اتنی بڑی میٹنگ ممکن نہیں ہوگی اور یہ میٹنگیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ 4 مئی کے بعد ریاست میں تبدیلیاں آنے والی ہیں۔