ڈرَنک اینڈ ڈرائیو معاملات میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صرف ڈرائیور کے نشے میں ہونے کی بنیاد پر پولیس کو گاڑی ضبط (سیز) کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔جسٹس ای وی وینوگوپال نے اپنے احکامات میں کہا کہ اگر گاڑی سے متعلق تمام ضروری دستاویزات موجود ہوں تو اسے ضبط نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اگر ڈرائیور کے نشے میں ہونے کی تصدیق ہو جائے تو اسے گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
نشہ میں گاڑی چالاتے ہوئے پکڑے جانے پر پولیس کیا کرے؟
عدالت نے مزید ہدایت دی کہ اگر اسی گاڑی میں کوئی دوسرا شخص موجود ہو جو نشے میں نہ ہو اور اس کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس ہو تو گاڑی اس کے حوالے کی جائے۔ اگر ایسا کوئی شخص موجود نہ ہو تو پولیس کو چاہیے کہ ڈرائیور کے رشتہ داروں یا دوستوں کو اطلاع دے کر گاڑی ان کے حوالے کرے۔
پولیس کو گاڑی واپس کرنی چاہئے:عدالت
ہائی کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی وجہ سے گاڑی ضبط کر لی جائے تو مالک یا مجاز شخص اگر رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (RC)، شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس پیش کرے تو گاڑی واپس کی جانی چاہیے۔
قوانین پر سختی سے عمل ہو:تین دن میں چارج شیٹ داخل کرنا لازمی
عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ ڈرَنک اینڈ ڈرائیو کیسز میں قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے اور موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعہ 148 کو لازمی طور پر نافذ کیا جائے۔ مزید برآں، اگر کسی نشے میں ڈرائیونگ کرنے والے کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے تو تین دن کے اندر چارج شیٹ داخل کرنا بھی ضروری ہوگا۔
2025 کے معاملے پرعدالت کا فیصلہ
یہ فیصلہ ایک درخواست کی سماعت کے بعد دیا گیا، جس میں 2025 میں ایک شخص کی گاڑی ضبط کیے جانے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کو ڈرَنک اینڈ ڈرائیو قوانین کے نفاذ میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
چالان کی رقم زبردستی وصول نہیں کرسکتے
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی تلنگانہ ہائی کورٹ نے ٹریفک پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ سڑکوں پر گاڑیوں کو روک کر موقع پر چالان کی رقم زبردستی وصول نہیں کر سکتے۔ اب اسی سلسلے میں عدالت نے ایک بار پھر سخت موقف اختیار کیا ہے۔
گاڑی ضبط کرنے اور چابیاں چھینے کا اختیار نہیں
جسٹس این وی شراون کمار نے اپنے حالیہ فیصلے میں کہا کہ پولیس نہ تو گاڑیوں کو روک کر زیر التوا چالان فوری ادا کرنے پر مجبور کر سکتی ہے اور نہ ہی ڈرائیوروں کی گاڑیوں کی چابیاں ضبط کر سکتی ہے یا انہیں روک سکتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جرمانوں کی وصولی صرف قانونی طریقۂ کار کے تحت ہی ممکن ہے، جس میں عدالت کی جانب سے نوٹس اور سماعت شامل ہے۔
قانون کےمطابق عدالت سے رجوع ہو پولیس
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی شہری رضاکارانہ طور پر چالان ادا کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، لیکن پولیس کو زبردستی یا دباؤ ڈالنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اگر کوئی شخص چالان ادا نہیں کرتا تو متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق عدالت سے رجوع کرنا ہوگا۔
شہریوں کے حقوق کے تحفظ کویقینی بنانا ہوگا
یہ ہدایات سکندرآباد کے ایک شہری کی جانب سے دائر درخواستوں پر سنائی گئیں، جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ حیدرآباد ٹریفک پولیس سڑکوں پر گاڑیوں کو روک کر پرانے چالان ادا کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔اس طرح، ہائی کورٹ کے تازہ احکامات نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ ٹریفک قوانین کے نفاذ میں پولیس کو قانونی حدود کے اندر رہ کر ہی کاروائی کرنی ہوگی اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔
ٹریفک پولیس کی ہراسانی !
واضح رہےکہ ٹریفک پولیس کی جانب سے عوام کو ہراساں کرنے کے معاملے دن بہ دن بڑھتے جا رہےہیں۔ ایک جانب ٹریفک پولیس مصروف چوراہوں پر کسی سایہ میں ٹھہر کر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنےوالوں کی تصاویر لے کر چالان کاٹتےہیں ۔ اور پھر کسی ایک مقام پر یا سگنل کے قریب اور مصروف راستہ پر پولیس جمعیت کےساتھ گاڑی چلانے والوں کو روک کر آن لائن چالان چیک کیا جاتا ہے۔ اور ساتھ ہی چالان فوری ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ پولیس کی کئی افسر بعض اوقات ایمرجنسی صورتحال پر بھی رحم نہیں کھاتے ہیں۔ کئی بار پولیس اہلکار عدالت کے احکام کی خلاف ورزی کرتے نظر آئے۔ اس طرح بے بس عوام کو پولیس آسانی سے ہراسانی کا شکار بناتی ہے۔
کیا ٹریفک پولیس اپنے اصل کام بھول گئی ہے؟ یا چلان کاٹنا ہی اس کا اصل کام ہے؟
اس معاملے پر تلنگانہ اسمبلی میں مجلس کےفلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے بھی اٹھایاتھا۔اویسی نے شکایت کی تھی کہ محکمہ پولیس کا عملہ مصروف اوقات میں ٹریفک بہاؤ کو تیز رفتار بنانے کےبجائے، کیمرے لےکر تصویر کشی میں مصروف دیکھا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس کاآج کل ایک نیا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ جس سڑک پر ٹریفک جام رہتا ہے وہاں سے ٹریفک سگنل کو بند کرکے آگے سے یو ۔ٹرن ، یا ون وے کر دیا جا رہا ہے۔ اس سڑک پر ٹریفک مسئلہ تو ختم ہو رہا ہے لیکن گاڑی چلانے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اگر اس جام کی جگہ مستقل پولیس عملہ تعینات کیا جائےتو وہاں پر ٹریفک جام نہیں ہوسکتا اور عوام کو بھی سہولت ہوگی۔ اس طرح کے حالات دیکھ کر ایسا لگتا ہےکہ پولیس کا کام ٹریفک مسائل کو حل کرنے کےبجائے صرف چالان ،کرنے اور چالان کی رقم وصول کرنا ہوگیا ہے۔ محکمہ پولیس اور حکومت کو عوام کے اس مسئلہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔