مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں مانسون کی شدید بارش نے تباہی مچا دی۔ مانکھرد کے جنتا نگر علاقے میں مسلسل بارش کے دوران ایک تین منزلہ رہائشی عمارت منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا۔
حادثے کے فوراً بعد، این ڈی آر ایف اور دیگر امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ حکام کے مطابق شدید بارش اور ملبے کے غیر مستحکم ہونے کی وجہ سے ابتدائی امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں، تاہم امدادی اہلکاروں نے مسلسل کوششوں کے بعد ملبے میں دبے افراد کو نکالا۔ اطلاعات کے مطابق شدید بارش کے باعث علاقے میں دو سے تین مکانات بھی منہدم ہوئے۔
مہاراشٹرحکومت نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے چار چار لاکھ روپے کی ایکس گریشیا امداد کا اعلان کیا ہے، جبکہ زخمی شخص کے بہتر علاج کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ادھر ممبئی میں بارش سے ہونے والی اموات پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے ترجمان آنند دوبے نے ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مانسون کی ابتدائی بارش میں ہی چھ قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ آئندہ دنوں مزید بارش کے باعث حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
آنند دوبے نے سوال اٹھایا کہ اگر بارش کے آغاز ہی میں ایسے حادثات پیش آ رہے ہیں تو شہری انتظامات پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سانحے کی ذمہ داری طے کی جائے اور متاثرہ علاقوں میں فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
محکمہ موسمیات نے ممبئی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں آئندہ چند روز تک مزید موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ شہری انتظامیہ نے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو احتیاط برتنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ہنگامی صورتحال میں سرکاری ہیلپ لائن سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
شدید بارش کے باعث شہر کے کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے، ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور شہری زندگی درہم برہم ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، جبکہ انتظامیہ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔