وزیراعظم نریندر مودی آج سے انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چھ روزہ سرکاری دورے کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس تین ملکی دورے کا مقصد ہند-بحرالکاہل خطے میں ہندوستان کے اسٹریٹجک، اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
دورے کے پہلے مرحلے میں وزیر اعظم مودی آج تین روزہ دورے پر انڈونیشیا پہنچیں گے۔ یہ ان کا انڈونیشیا کا چوتھا دورہ ہوگا اور مئی 2018 میں دونوں ممالک کے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک پہنچانے کے بعد ان کا پہلا باقاعدہ دوطرفہ دورہ ہے۔
دورے کے دوران وزیر اعظم مودی انڈونیشیا کے صدر کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے۔ ملاقات میں دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، سمندری سلامتی، توانائی، ڈیجیٹل تعاون اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ دونوں رہنما گزشتہ برسوں میں دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیں گے اور مستقبل کے تعاون کے لیے نئی راہیں تلاش کریں گے۔
وزیر اعظم کی اہم مصروفیات دارالحکومت جکارتہ میں ہوں گی، جہاں وہ ہندوستانی برادری کے ایک بڑے اجتماع سے بھی خطاب کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ اپنے خطاب میں ہندوستان اور انڈونیشیا کے تاریخی، ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیں گے۔
اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم یوگیکارتا بھی جائیں گے، جو انڈونیشیا کا ایک اہم ثقافتی اور تاریخی شہر ہے۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کے فروغ کے لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ہندوستان اور انڈونیشیا کے درمیان سمندری سلامتی کا تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ انڈونیشیا آبنائے ملاکا کے اہم سمندری راستے کے قریب واقع ہے، جو عالمی تجارت اور ہندوستان کی توانائی و تجارتی رسد کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک ہند-بحرالکاہل خطے میں آزاد، محفوظ اور مستحکم بحری گزرگاہوں کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔
انڈونیشیا کے دورے کے بعد وزیر اعظم مودی آسٹریلیا اور پھر نیوزی لینڈ جائیں گے، جہاں وہ اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقاتوں، اقتصادی مذاکرات اور مختلف سرکاری پروگراموں میں شرکت کریں گے۔ حکومت کے مطابق اس چھ روزہ دورے سے ہندوستان کے تینوں ممالک کے ساتھ تعلقات کو نئی رفتار ملنے اور تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، تعلیم اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔