Friday, February 06, 2026 | 18, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • منور رانا کی بیٹی نے اپنے سسرال والوں کے خلاف درج کرائی ایف آئی آر

منور رانا کی بیٹی نے اپنے سسرال والوں کے خلاف درج کرائی ایف آئی آر

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Feb 04, 2026 IST

منور رانا کی بیٹی نے اپنے سسرال والوں  کے خلاف درج کرائی ایف آئی آر
اترپردیش :لکھنؤکے سادات گنج تھانہ علاقے میں ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ معروف شاعر منور رانا کی بیٹی حبا رانا نے اپنے شوہر اور سسر پر حملہ، اقدام قتل، جہیز کے لیے ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے اور تین طلاق سمیت سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ میڈی ایشن ناکام ہونے کے بعدحبا رانا نے اپنے سسر اور شوہر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی۔
 
لکھنؤ کے سادات گنج پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر میں حبا رانا نے کئی سنگین الزامات لگائے ہیں۔ پولیس شکایت میں حبا نے کہا کہ اس کی شادی 19 دسمبر 2013 کو لکھنؤ کے کریم گنج کے رہنے والے سید محمد ثاقب ولد سید حسیب احمد کے ساتھ اسلامی رسم و رواج کے مطابق ہوئی تھی۔ الزام ہے کہ شادی کے وقت اس کے والد اور اہل خانہ نے اس کے سسرال والوں کو سونا اور ہیرے کے زیورات اور 10 لاکھ روپے نقد جہیز کے طور پر دیے۔
 
حبا رانا کے مطابق شادی کے بعد وہ اپنے سسرال چلی گئی اور بیوی کی ذمہ داریاں پوری کیں لیکن اس کے باوجود شوہر اور سسر مزید جہیز اور 20 لاکھ روپے نقد کا مطالبہ کرتے رہے۔ الزام ہے کہ ان کی شادی شدہ زندگی بچانے کے لیے کئی بار جہیز کے مطالبات پورے کیے گئے۔ اس شادی سے ان کے دو بچے ہیں: ایک بیٹا سید فواز اور ایک بیٹی حیام فاطمہ۔
 
پولیس کو دی گئی اپنی شکایت میں معروف شاعر منور رانا کی بیٹی نے یہ بھی کہا کہ اس کے شوہر سید محمد ثاقب نے اسے روزانہ وحشیانہ مار پیٹ کا نشانہ بنایا اور متعدد بار قتل کرنے کی کوشش کی۔ مزید یہ کہ اس کے سسر بھی مسلسل رقم اور فلیٹ کا مطالبہ کرتے رہے۔
 
حبانے بتایا کہ 9 اپریل 2025 کو ان کے شوہر نے ان کے ساتھ گالی گلوچ اور مار پیٹ کی۔ جب ان کی بہن عرشیہ رانا (عرف ٹینا) ان سے ملنے سسرال پہنچیں تو شوہر ناراض ہو گیا اور گالی گلوچ کرتے ہوئے حملہ آور ہو گیا۔ الزام ہے کہ اسی دوران شوہر نے تین بار طلاق کہہ کر انہیں گھر سے دھکے مار کر نکال دیا اور دونوں بچوں کو گھر کے ایک کمرے میں قید کر دیا۔
 
اس واقعے کے بعد حبا رانا کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بہت خوفزدہ ہیں۔ الزام لگایا گیا ہے کہ شوہر سید محمد ساقب اور ان کے والد سید حسیب احمد کی طرف سے مسلسل ان کے ماہرے والوں کو جان و مال کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
 
حبا رانا نے اپنی درخواست  میں پولیس سے گزارش کی ہے کہ ملزمان کے مجرمانہ اعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور قانون کے مطابق سخت کاروائی کی جائے۔ یہ شکایت 10 اپریل 2025 کو لکھنؤ میں پولیس کو دی گئی تھی۔
 
پولیس نے بی این ایس 2023، جہیز پر پابندی ایکٹ، اور مسلم خواتین (شادی کے حقوق کے تحفظ) ایکٹ کے سیکشن کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور مزید قانونی کاروائی جاری ہے۔