مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے اور ریاست کی تمام 294 نشستوں پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ جہاں ایک طرف ریاست میں بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے، وہیں دوسری طرف سب کی نظریں مرشد آباد ضلع کی ناؤدا (Naoda) اسمبلی نشست پر جمی ہوئی ہیں۔ یہاں سے اپنی نئی سیاسی جماعت 'عام جنتا اونین پارٹی' (AJUP) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے والے ہمایوں کبیر ابتدائی رجحانات میں اپنے حریفوں سے آگے چل رہے ہیں۔11320 ووٹوں کے ساتھ وہ آگے چل رہے ہیں؟
بیلٹ پیپر کی گنتی میں سبقت:
ووٹوں کی گنتی کا آغاز پوسٹل بیلٹ سے ہوا، جس میں ہمایوں کبیر نے ابتدائی برتری حاصل کی۔ ای وی ایم (EVM) کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد بھی وہ بر تری میں ہیں۔ ہمایوں کبیر اس پورے انتخابی سیزن میں اپنے بیانات اور اقدامات کی وجہ سے سرخیوں میں رہے ہیں، خاص طور پر بیل ڈانگا میں ایک 'بابری مسجد' کی بنیاد رکھنے کے ان کے اعلان نے ریاست کی سیاست میں ہیجان پیدا کر دیا تھا۔
ممتا بنرجی کا سخت ایکشن اور نئی پارٹی کا قیام:
ہمایوں کبیر، جو پہلے ٹی ایم سی کے رکن اسمبلی تھے، کو اس وقت پارٹی سے نکال دیا گیا تھا جب انہوں نے متنازعہ مذہبی اقدامات کے ذریعے سیاسی ہلچل پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے انہیں پارٹی سے باہر کا راستہ دکھایا، جس کے بعد انہوں نے 'عام جنتا اونین پارٹی' (AJUP) بنائی۔ رپورٹوں کے مطابق، ہمایوں کبیر جس مسجد کی تعمیر کی بات کر رہے ہیں، اس پر تقریباً 50 سے 55 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ ہے اور اس کا سنگ بنیاد بھی رکھا جا چکا ہے۔
ناؤدا کا پیچیدہ انتخابی مقابلہ:
ناؤدا نشست پر مقابلہ کثیر الجہتی (Multi-cornered) ہے۔ یہاں ٹی ایم سی کی ساہینہ ممتاز خان، بی جے پی کے رانا منڈل اور کانگریس کے مطیع الرحمن میدان میں ہیں۔ تاہم، اصل مقابلہ ہمایوں کبیر اور بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہی مانا جا رہا ہے۔
ووٹ بینک کی اہمیت:
ناؤدا میں کل ووٹرز کی تعداد تقریباً 2.35 لاکھ ہے، جہاں مرد اور خواتین ووٹرز کا تناسب تقریباً برابر ہے۔ یہاں درج فہرست ذاتوں (SC/ST) کے علاوہ مسلم ووٹرز کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جو کسی بھی امیدوار کی جیت یا ہار کا فیصلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر ہمایوں کبیر یہ برتری برقرار رکھتے ہیں، تو یہ مرشد آباد کی سیاست میں ایک بڑا دھماکہ ثابت ہو سکتا ہے۔