Tuesday, September 01, 2026 | 17 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • ریاستی درجہ کی بحالی: این سی نے کیا جموں وکشمیر میں بی جےپی دفتر کے گھیراؤ کا اعلان

ریاستی درجہ کی بحالی: این سی نے کیا جموں وکشمیر میں بی جےپی دفتر کے گھیراؤ کا اعلان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: NC to Gherao BJP Offices in J&K Over Statehood Demand | Last Updated: Sep 01, 2026 IST

ریاستی درجہ کی بحالی: این سی نے کیا جموں وکشمیر میں بی جےپی دفتر کے گھیراؤ کا اعلان
 جموں و کشمیر کی حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) نے منگل کو کہا کہ وہ بدھ کو جموں اور سری نگر میں  اپوزیشن بی جے پی کے ہیڈکوارٹر کا گھیراؤ کرے گی، اور مرکزی حکومت کے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں "ریاست کی بحالی" کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کی جوابدہی کا مطالبہ کرے گی۔

بی جےپی دفتر کے گھیراؤ کا اعلان

این سی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’نیشنل کانفرنس کل سری نگر اور جموں میں بی جے پی کے ہیڈکوارٹر کا پرامن طور پر گھیراؤ کرے گی، اور مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں اور سپریم کورٹ آف انڈیا کے سامنے کیے گئے وعدوں کے لیے جوابدہی کا مطالبہ کرے گی۔‘‘
یہ اعلان عمر عبداللہ حکومت کی اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں مبینہ طور پر ناکامی کی وجہ سے یہاں کے سول سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کرنے کا بی جے پی کے منصوبہ سے ایک دن پہلے آیا ہے۔

ریاستی درجہ کی بحالی کی مانگ

این سی نے کہا۔"ہمارے مطالبات واضح ہیں: آئینی ضمانتیں، ریاستی حیثیت کی بحالی، ریزرویشن فائل کی کلیئرنس، اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے انصاف۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کا مینڈیٹ کوئی خالی چیک نہیں ہے۔ اس کا احترام کیا جانا چاہیے، اسے معمولی نہیں سمجھنا چاہیے،" 
آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کو اگست 2019 میں جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دوبارہ منظم کیا گیا۔ دسمبر 2023 میں، سپریم کورٹ نے مرکز کے فیصلے کی آئینی جواز کو برقرار رکھا، یہ مشاہدہ کرتے ہوئے کہ ریاست کادرجہ جلد از جلد بحال کیا جانا چاہیے۔

نئی دہلی میں بھی این سے نے کیا تھا احتجاج 

جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے تحت جولائی 2026 میں نئی دہلی کے جنتر منتر پر جموں و کشمیر کی حکمران جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) نے احتجاج کا پروگرام کیا تھا۔ احتجاج پالیمنٹ کے  مانسون اجلاس کےدوران کیا گیا تھا۔ اس احتجاج میں دیگر قومی پارٹیوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی۔ اس احتجاج کا مقصد جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ جلد از جلد بحال کرنا۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز پر دہلی میں  احتجاج  کیا گیا تھا۔این سی نے اس احتجاج کے لیے دوسری بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دی تھی، لیکن بیشتر حریف جماعتوں نے اس پر فوری حتمی فیصلہ نہیں کیا جبکہ بی جے پی نے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔

اسٹیٹ ہڈ کےوعدے میں رکاوٹ کون؟

 این سی نے مرکزی حکومت اور بی جے پی پر  ریاستی درجہ کی بحالی  کےوعدے میں ناکام ہونے کا الزم لگایا ہے۔ اور ریاستی درجہ کی بحالی میں بی جےپی کو، روکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔ اور اب بی جےپی کےخلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔