Tuesday, September 01, 2026 | 17 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • انفیکشن جوآسانی سے ٹھیک نہ ہو،اسے نظر انداز نہ کریں: ڈاکٹر عرفانہ محمد

انفیکشن جوآسانی سے ٹھیک نہ ہو،اسے نظر انداز نہ کریں: ڈاکٹر عرفانہ محمد

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Sep 01, 2026 IST

انفیکشن جوآسانی سے ٹھیک نہ ہو،اسے نظر انداز نہ کریں: ڈاکٹر عرفانہ محمد
منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج
“Infections That Don't Heal Easily - When to See an Infection Specialist? HIV, TB, Bone & Implant Infections and Prevention by Vaccines” کے موضوع پر ایک اہم اور معلوماتی گفتگو پیش کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹرعرفانہ محمد،
 
Infectious Diseases Specialist اور Internal Medicine Specialist، MBBS، DNB Internal Medicine، FNB Infectious Diseases، KIMS-SUNSHINE Hospitals، بیگم پیٹ، حیدرآباد نے ایسے انفیکشنز کے بارے میں تفصیل سے بتایا جو عام علاج کے باوجود جلد ٹھیک نہیں ہوتے اور جن میں ماہرِ امراضِ متعدیہ سے رجوع کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔
 
ڈاکٹر عرفانہ نے کہا کہ ہر انفیکشن خطرناک نہیں ہوتا، لیکن اگر بخار بار بار واپس آئے، زخم دیر سے بھرے، مسلسل کھانسی رہے یا کسی انفیکشن کی علامات مناسب علاج کے باوجود برقرار رہیں تو اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بعض اوقات انفیکشن کی اصل وجہ، جراثیم کی قسم یا دوا کے خلاف مزاحمت معلوم کرنے کے لیے خصوصی جانچ کی ضرورت پڑتی ہے۔
 
انہوں نے بتایا کہ HIV، Tuberculosis (TB)، ہڈیوں کے انفیکشن اور سرجری کے بعد لگائے گئے امپلانٹس سے متعلق انفیکشنز ایسے مسائل ہیں جن میں درست تشخیص اور ماہر کی نگرانی اہم ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ہڈی یا جوڑ میں انفیکشن بعض اوقات طویل عرصے تک چل سکتا ہے اور اس کے لیے صرف عام اینٹی بایوٹک کافی نہیں ہوتی۔ ایسے مریضوں میں مختلف ٹیسٹ، کلچر اور امیجنگ کے ذریعے انفیکشن کی نوعیت سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
 
TB کے حوالے سے ڈاکٹر عرفانہ نے کہا کہ مسلسل کھانسی، بخار، رات کو پسینہ آنا، وزن کم ہونا اور بھوک میں کمی جیسی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہر مسلسل کھانسی TB نہیں ہوتی، لیکن خطرے کے عوامل اور علامات موجود ہوں تو بروقت طبی معائنہ ضروری ہے۔ TB کی تشخیص ہونے پر دوا کا مکمل کورس ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق پورا کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔
 
HIV سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے بارے میں خوف اور غلط فہمیاں اب بھی موجود ہیں۔ بروقت ٹیسٹنگ اور مناسب علاج سے HIV کے ساتھ رہنے والے افراد طویل اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ HIV سے متعلق معلومات صرف مستند طبی ذرائع سے حاصل کریں اور کسی بھی فرد کے ساتھ بیماری کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔
 
امپلانٹ یا سرجری کے بعد انفیکشن کے بارے میں ڈاکٹر نے بتایا کہ زخم کے اردگرد بڑھتی ہوئی سرخی، سوجن، پیپ، مسلسل درد یا بخار جیسی علامات سامنے آئیں تو فوری طور پر متعلقہ ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ بروقت علاج سے پیچیدگیوں کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔
 
گفتگو کا ایک اہم حصہ ویکسینیشن بھی رہا۔ ڈاکٹر عرفانہ نے کہا کہ بعض سنگین انفیکشنز سے بچاؤ میں ویکسین اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ عمر، صحت کی حالت اور بیماری کے خطرے کے مطابق ڈاکٹر سے مشورہ کرکے ضروری ویکسینیشن مکمل رکھنا فائدہ مند ہے۔ انہوں نے ہاتھوں کی صفائی، محفوظ خوراک اور پانی، زخموں کی مناسب دیکھ بھال اور غیر ضروری اینٹی بایوٹک استعمال سے گریز کو بھی ضروری قرار دیا۔
 
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر عرفانہ محمد نے کہا کہ انفیکشن کے معاملے میں سب سے اہم چیز صحیح تشخیص اور صحیح وقت پر علاج ہے۔ اگر بیماری بار بار لوٹ رہی ہو یا معمول کے علاج سے بہتر نہ ہو تو خود سے دوائیں تبدیل کرنے کے بجائے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ بروقت قدم اٹھانے سے کئی پیچیدہ انفیکشنز کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔
 
 قارئین ڈاکٹرعرفانہ محمد کی انفیکشن پرکی مکمل گفتگو یہاں👇دیکھ سکتےہیں۔ اورہیلتھ سے جڑے کسی بھی موضوع پر، اہم ویڈیوزمنصف ٹی وی ہیلتھ پر بھی دیکھ سکتےہیں۔