Tuesday, September 01, 2026 | 17 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بڑا ریلیف۔قید تنہائی ختم کرنے ہائی کورٹ کا حکم

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بڑا ریلیف۔قید تنہائی ختم کرنے ہائی کورٹ کا حکم

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Sep 01, 2026 IST

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بڑا ریلیف۔قید تنہائی ختم کرنے ہائی کورٹ کا حکم
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے جیل حکام کو ہدایت کی ہے کہ انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید تنہائی میں نہ رکھا جائے۔ جسٹس خادم حسین سومرو کی سربراہی میں بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے یہ احکامات عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد جاری کیے۔

عدالت کے فیصلے کی جھلکیاں:

قید تنہائی کا خاتمہ:  عمران خان جوڑے کو قید تنہائی میں رکھنے کا رواج ختم کیا جائے اور جیل قوانین کے مطابق معمول کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ عمران اور بشریٰ کو ملاقات کا موقع دیا جائے۔ 
 
بروقت خاندان سے ملاقاتیں: جیل کے قوانین کے مطابق خاندان کے افراد کو عمران سے ملنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اس کے لیے اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔
 
کتابیں، رسائل اور ادویات:  روزانہ اخبارات اور کتابیں باقاعدگی سے فراہم کرنے کے علاوہ جیل کے ضوابط کے مطابق مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
15 روز میں رپورٹ:عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ ان احکامات پر عمل درآمد سے متعلق 15 روز میں مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔
 
واضح رہےکہ 73 سالہ کرکٹر سے سیاست دان بنے عمران خان  اور ان کی اہلیہ اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں  ہیں، کرپشن اور اس سے متعلقہ مقدمات میں طویل قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔یہ فیصلہ خان کی بہن علیمہ خان کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی کے بانی کی مبینہ قید تنہائی کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے کے بعد سامنے آیا جب کہ بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ خاور مانیکا نے ان سے متعلق درخواست دائر کی تھی۔ 

عمران خان کا جیل میں وقت

خان اگست 2023 سے ان سزاؤں کے بعد جیل میں ہیں جنہیں وہ اور ان کی پی ٹی آئی پارٹی نے سیاسی طور پر محرک قرار دیا ہے۔ ان کے حامیوں اور رشتہ داروں نے بارہا الزام لگایا ہے کہ حکام نے ان کی رسائی اہل خانہ اور مناسب طبی دیکھ بھال تک محدود کر رکھی ہے۔ حکومت نے ایسے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
 
بشرہ بی بی کو پہلی بار 31 جنوری 2024 کو بدعنوانی سے متعلق مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد جیل بھیج دیا گیا تھا، اور تقریباً نو ماہ کی جیل میں رہنے کے بعد اسی سال 24 اکتوبر کو انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔انھیں  17 جنوری 2025 کو بدعنوانی سے متعلق ایک اور مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا اور بدعنوانی سے متعلق مقدمات میں اضافی سزائیں سنانے کے بعد اڈیالہ جیل میں ہیں۔
 
 عمران خان  کے اہل خانہ اور حامیوں کی طرف سے ان کی صحت، خاص طور پر  آنکھ کی حالت کے بارے میں کئی مہینوں کے خدشات کے بعدگزشتہ ماہ، پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ خان کو نجی طور پر چلنے والے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں منتقل کر دیا جائے۔ تاہم، 20-21 اگست کی درمیانی شب، خان کو شفا اسپتال کے بجائے طبی طریقہ کار اور تشخیصی معائنے کے لیے سرکاری زیر انتظام پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) میں داخل کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں واپس اڈیالہ جیل لے جایا گیا۔
 
ان کے اہل خانہ نے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا اور دلیل دی کہ اس فیصلے سے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی، جس نے ہدایت کی کہ خان کو 16 ستمبر کو ہونے والی اگلی سماعت تک اسلام آباد کے اسپتال میں داخل رکھا جائے۔ حکومت نے سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پمز لے جانے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا۔
 
جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ کے روبرو توہین عدالت کی درخواست کی سماعت 16 ستمبر کو ہوگی۔ یہی بنچ خان کی صحت اور خاندانی ملاقاتوں سے متعلق زیر التوا مقدمات کی سماعت بھی کرے گا۔
 
قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے یہ مثبت فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کرپشن کیسز میں طویل سزا کاٹ رہے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے اہل خانہ کچھ عرصے سے یہ خدشات ظاہر کر رہے تھے کہ انہیں جیل میں مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔