دہلی کے جنتر منتر سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکلے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ ان مظاہروں میں جہاں زیادہ تر طلبہ نے اپنے مستقبل اور امتحانی نظام میں شفافیت کا مطالبہ کیا، وہیں بعض مقامات پر ایسے نعرے بھی سننے کو ملے جنہیں کئی حلقوں نے نامناسب قرار دیا۔
اسی سلسلے میں آسام کے ایک وزیر کی بیٹی کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر زیر بحث رہی، جس میں وہ ایک متنازع نعرہ لگاتی دکھائی دیں۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے کہا کہ آج کل کے بچے ہمیشہ والدین کی بات نہیں مانتے، اس لیے کسی بچے کی حرکت کی بنیاد پر اس کے والدین کو نشانہ بنانا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں خاندان بچوں کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔
تاہم وزیر اعلیٰ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر کئی سوالات بھی اٹھائے گئے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی سیاسی شخصیت کے خاندان کے فرد کے لیے نرم رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے تو پھر عام شہریوں کے ساتھ بھی یکساں معیار اپنایا جانا چاہیے۔
اسی تناظر میں بعض صارفین نے یہ معاملہ بھی اٹھایا کہ آسام میں تین مسلم نوجوانوں کو احتجاج سے متعلق ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کا سوال ہے کہ کیا مختلف افراد اور مختلف حالات میں قانون کے نفاذ کا معیار ایک جیسا رکھا جا رہا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر بھی اعتراضات سامنے آئے۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس ویڈیو میں احتجاج کے مناظر دکھاتے ہوئے زیادہ تر ایک مخصوص مذہبی شناخت رکھنے والے افراد کو نمایاں کیا گیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ احتجاج کو ایک خاص برادری سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض مبصرین نے اسے "سلیکٹیو پروفائلنگ" قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر احتجاج میں مختلف مذاہب، ذاتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ شریک تھے تو پھر ویڈیو میں صرف ایک مخصوص شناخت کو نمایاں کرنے کی وجہ کیا تھی؟
اس کے ساتھ یہ بات بھی سامنے آئی کہ احتجاج کے دوران بعض مظاہرین کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی، جسے کئی حلقوں نے غلط اور ناقابل قبول قرار دیا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی شخص یا گروہ کی جانب سے نامناسب زبان استعمال کی جائے تو قانون کا اطلاق یکساں ہونا چاہیے اور کسی ایک کمیونٹی کو اجتماعی طور پر نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے، احتجاج اور قانون کی عملداری سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔ اگر کسی فرد نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو کارروائی بھی اسی فرد تک محدود رہنی چاہیے، نہ کہ اس کی مذہبی یا سماجی شناخت کی بنیاد پر پورے طبقے کو نشانہ بنایا جائے۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، اور یہی آئینی اصول کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔