• News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • نیٹ پیپر لیک پر حیدرآباد میں احتجاج، دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ

نیٹ پیپر لیک پر حیدرآباد میں احتجاج، دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 24, 2026 IST

نیٹ پیپر لیک پر حیدرآباد میں احتجاج، دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ
 
NEET UG 2026 پیپر لیک معاملے پر دہلی میں ہونے والے 'چلو سنسد' مارچ کے دوران طلبہ پر مبینہ پولیس لاٹھی چارج کے خلاف جمعہ کو حیدرآباد میں مختلف طلبہ تنظیموں نے احتجاج کیا۔ طلبہ کے ساتھ سماجی کارکنوں نے بھی شرکت کی اور دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
 

طلبہ ریلی سے ٹریفک متاثر

احتجاج کے دوران مختلف طلبہ تنظیموں نے 'طلبہ ریلی' نکالی، جو نارائن گوڈا کراس روڈ سے شروع ہو کر وائی جنکشن پر ختم ہوئی۔ اس ریلی میں ایس ایف آئی، اے آئی ایس ایف، این ایس یو آئی، پی ڈی ایس یو، اے آئی ایف ڈی ایس، اے آئی پی ایس یو اور اے آئی ایس بی، سمیت کئی طلبہ تنظیموں نے حصہ لیا۔ ریلی کی وجہ سے نارائن گوڈا روڈ پر ٹریفک کافی دیر تک متاثر رہا۔
 

کئی تعلیمی ادارے بند رہے

طلبہ کی اپیل پر شہر کے کئی اسکولز اور کالجز بند رہے- احتجاج کرنے والی طلبہ تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ: NEET UG 2026 پیپر لیک معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔ پیپر لیک کے باعث خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے بطور معاوضہ دیا جائے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کو ختم کیا جائے۔ مجوزہ 'وکست بھارت شکشہ ادھیشتھان بل 2025' کو واپس لایا جائے۔ طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ پیپر لیک جیسے معاملات سے طلبہ کے مستقبل پر برا اثر پڑتا ہے، اس لیے حکومت کو فوری اور سخت اقدامات کرنے چاہییں۔
 

دہلی سمیت دیگر کئی ریاستوں میں احتجاج 

NEET UG 2026 پیپر لیک معاملے پر احتجاج اب صرف دہلی یا حیدرآباد تک محدود نہیں رہا۔ ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ، نوجوان تنظیمیں، ریزیڈنٹ ڈاکٹرز اور اپوزیشن جماعتیں بھی سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ امتحانی نظام میں شفافیت، پیپر لیک کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) میں اصلاحات اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے، جبکہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بھی ہنگامہ آرائی اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔