• News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • پہلگام حملہ کیس: حافظ سعید کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری، غیر حاضری میں بھی مقدمہ چلانے کی تیاری

پہلگام حملہ کیس: حافظ سعید کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری، غیر حاضری میں بھی مقدمہ چلانے کی تیاری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 14, 2026 IST

پہلگام حملہ کیس: حافظ سعید کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری، غیر حاضری میں بھی مقدمہ چلانے کی تیاری
 
جموں کی ایک خصوصی این آئی اے (نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی) عدالت نے پہلگام دہشت گرد حملہ کیس میں پاکستان میں موجود لشکرِ طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر دیا ہے۔یہ فیصلہ این آئی اے کی جانب سے عدالت میں اضافی چارج شیٹ جمع کرانے کے چند دن بعد کیا گیا، جس میں حافظ سعید کو بھی اس کیس کا ملزم بنایا گیا ہے۔
 

این آئی اے نے کیا کہا؟

این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ حافظ سعید پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کا رہائشی ہے اور وہ جان بوجھ کر گرفتاری سے بچ رہا ہےایجنسی نے عدالت سے درخواست کی کہ اس کی گرفتاری کے لیے غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا جائے تاکہ اس کے خلاف مزید قانونی کاروائی کی جا سکے۔ عدالت نے این آئی اے کی درخواست قبول کرتے ہوئے کہا کہ منصفانہ اور مکمل تحقیقات کے لیے حافظ سعید کی گرفتاری اور پوچھ تاچھ ضروری ہے، اس لیے اس کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا جاتا ہے۔
 

غیر حاضری میں مقدمہ چلانے کی تیاری

غیر ضمانتی وارنٹ جاری ہونے کے بعد حافظ سعید کے خلاف غیر حاضری میں مقدمہ (Trial in Absent) چلانے کا عمل بھی آگے بڑھ گیا ہے۔این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ حافظ سعید اس وقت پاکستان میں موجود ہے اور اسے بھارت لانا فی الحال ممکن نہیں۔ نئے فوجداری قوانین کے مطابق اگر کوئی ملزم بار بار نوٹس اور وارنٹ کے باوجود عدالت میں حاضر نہ ہو تو مقررہ قانونی کاروائی مکمل ہونے کے بعد عدالت اس کی غیر موجودگی میں بھی مقدمہ چلا سکتی ہے۔
 

حافظ سعید پر کن دفعات کے تحت مقدمہ؟

اضافی چارج شیٹ میں حافظ سعید پر بھارتیہ نیا سنہتا (BNS) 2023 اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
 

غیر حاضری میں مقدمہ کیا ہوتا ہے؟

غیر حاضری میں مقدمہ نئے بھارتی فوجداری قوانین کے تحت شامل کی گئی ایک قانونی شق ہے۔اس کے مطابق اگر کوئی ملزم جان بوجھ کر عدالت میں حاضر نہ ہو اور قانونی کاروائی سے بچتا رہے، تو عدالت اس کی غیر موجودگی میں بھی مقدمہ چلا سکتی ہے، تاکہ سنگین جرائم کے ملزم ملک سے باہر رہ کر انصاف سے نہ بچ سکیں۔
 

حافظ سعید کون ہے؟

حافظ سعید پاکستان میں قائم لشکرِ طیبہ کا بانی ہے، جس پر بھارت سمیت کئی ممالک پابندی لگا چکے ہیں۔بھارت اور امریکہ دونوں نے اسے عالمی دہشت گرد قرار دیا ہے۔ اسے 2008 کے ممبئی دہشت گرد حملوں کا بھی اہم منصوبہ ساز سمجھا جاتا ہے، جن میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ این آئی اے کا کہنا ہے کہ اس کیس میں حافظ سعید کا نام سامنے آنے سے یہ شبہ مزید مضبوط ہوا ہے کہ پہلگام حملے کے پیچھے پاکستان میں موجود دہشت گردوں کا ہاتھ تھا۔ 
 

دیگر ملزمان کون ہیں؟

این آئی اے کی پہلی چارج شیٹ میں تین پاکستانی دہشت گرد سلیمان، جبران اور حمزہ افغانی کو ملزم بنایا گیا تھا۔اس کے علاوہ لشکرِ طیبہ کے دہشت گرد ساجد سیف اللہ جٹ کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔تفتیش کے دوران پہلگام کے دو مقامی افراد بشیر احمد اور پرویز احمد کو بھی ملزم قرار دیا گیا ۔
 

پہلگام حملہ کیا تھا؟

22 اپریل کو جنوبی کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے 26 افراد کو قتل کر دیا تھا، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔اس حملے کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصہ پھیل گیا، جس کے بعد این آئی اے نے حملے کی منصوبہ بندی، اس میں شامل افراد اور سرحد پار موجود دہشت گرد نیٹ ورک کی تحقیقات شروع کیں۔ ایجنسی اب بھی اس حملے میں ملوث تمام دہشت گردوں، سازش کرنے والوں اور ان کی مدد کرنے والوں کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔