نیپال کی حکومت نے تباہ کن سیلاب کے بعد اپنا پہلے کا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے غیر ملکی تلاش اور بچاؤ ٹیموں کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔اس سیلاب میں 623 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ کئی لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد کی تعداد 2,500 سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ اعداد و شمار مختلف سرکاری اداروں کے حساب سے کچھ مختلف ہیں نیپال کی جانب سے یہ فیصلہ ان ممالک کے دباؤ کے بعد کیا گیا ہے جن کے شہری سیلاب کے بعد لاپتہ ہیں۔ نیپالی حکام کے مطابق بھارت، چین، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کے فرانزک ماہرین اور امدادی ٹیموں کو مخصوص علاقوں میں کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
نیپال نے پہلے غیر ملکی امدادی ٹیموں کو منع کر دیا تھا
سیلاب کے فوراً بعد نیپال نے کہا تھا کہ وہ غیر ملکی تلاش اور بچاؤ ٹیموں کی مدد قبول نہیں کرے گا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ نیپال کے اپنے امدادی ادارے تلاش اور بچاؤ کا کام مؤثر طریقے سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بعد میں نیپال نے بین الاقوامی مالی امداد کی درخواست تو کی، لیکن غیر ملکی امدادی ٹیموں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا ۔ نیپالی وزارت خارجہ کے ترجمان لوک بہادر چھیتری نے کہا تھا کہ اگر ملک کو کسی خاص مہارت یا مدد کی ضرورت ہوئی تو حکومت خود اس کے لیے درخواست کرے گی۔
کئی ہائیڈرو پاور منصوبوں میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں
رپورٹس کے مطابق سیلاب سے رسوا اور نواکوٹ اضلاع میں 14 ہائیڈرو پاور منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ متعدد منصوبوں کی سرنگوں میں کارکن اب بھی لاپتہ ہیں، اسی وجہ سے سرنگوں سے بچاؤ کے ماہرین کی ضرورت پیش آئی ہے۔
اب محدود تعداد میں غیر ملکی ماہرین کو اجازت
بعد میں لاپتہ غیر ملکی شہریوں کی تلاش اور ان کے متعلق ضروری کاروائی کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے دباؤ بڑھا۔ اس کے بعد نیپال نے اپنے فیصلے میں تبدیلی کی۔ اب بھارت، چین، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کی مخصوص ٹیموں اورفرانزک ماہرین کو تلاش اور بچاؤ کے کام میں مدد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کچھ فرانزک ماہرین کو لاشوں کی شناخت اور فرانزک جانچ میں بھی مدد کرنے کی اجازت ہوگی۔
بھارت نے پہلے ہی مدد کی پیشکش کی تھی
بھارت نے سیلاب کے فوراً بعد نیپال کی مدد کے لیے امدادی سامان بھیجا تھا۔ نئی دہلی نے نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس یعنی این ڈی آر ایف کی ٹیمیں بھیجنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ نیپال کو تلاش، بچاؤ اور امدادی کاروائیوں میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے مطابق بھارت کی طرف سے امدادی سامان کی ایک اور کھیپ کے ساتھ ڈاکٹروں، طبی عملے اور سرنگوں میں بچاؤ کے کام کے لیے 11 رکنی ٹیم بھی روانہ کی گئی ہے۔
320 سے زیادہ بھارتی شہری لاپتہ
بھارتی وزارت خارجہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، سیلاب کے بعد کم از کم 320 بھارتی شہری لاپتہ ہیں، جبکہ تقریباً 400 بھارتی شہری چین کی جانب پھنسے ہوئے ہیں۔اس دوران چین کی جانب پھنسے ہوئے 153 بھارتی شہری بحفاظت نیپال پہنچ چکے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت نے نیپال کو این ڈی آر ایف کی ٹیمیں ان کے ضروری سامان کے ساتھ بھیجنے کی پیشکش کی ہے تاکہ جاری تلاش اور بچاؤ کی کاروائیوں میں مدد کی جا سکے۔جنوبی کوریا نے بھی نیپال سے اپنے شہریوں کی تلاش میں مدد کی درخواست کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 9 جنوبی کوریائی شہری اب بھی رابطے سے باہر ہیں، جس کے بعد سیول نے اپنی فوری ردعمل ٹیم کے ذریعے امدادی کاروائی میں حصہ لینے کی اجازت مانگی۔
نیپال کے جواب کا انتظار
بھارت نے کہا ہے کہ وہ نیپال کی حکومت کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ دوسری جانب نیپال نے محدود تعداد میں غیر ملکی فرانزک ماہرین کو مخصوص علاقوں میں کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس طرح نیپال نے پہلے غیر ملکی امدادی ٹیموں کو نہ بلانے کے اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹتے ہوئے اب بین الاقوامی فرانزک ماہرین کی محدود مدد قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔