Friday, March 20, 2026 | 30 رمضان 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • نتیش کمار کی جے ڈی یو صدارت تقریبا طے، بلا مقابلہ انتخاب کا امکان، بہار میں قیادت کو لے کر قیاس آرائیاں تیز

نتیش کمار کی جے ڈی یو صدارت تقریبا طے، بلا مقابلہ انتخاب کا امکان، بہار میں قیادت کو لے کر قیاس آرائیاں تیز

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Mar 19, 2026 IST

نتیش کمار کی جے ڈی یو صدارت تقریبا طے، بلا مقابلہ انتخاب کا امکان، بہار میں قیادت کو لے کر قیاس آرائیاں تیز
بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے جنتا دل (یونائیٹڈ) کے قومی صدر کے عہدے کے لیے اپنا نامزدگی پرچہ داخل کر دیا ہے، جس کے بعد ان کی دوبارہ بطور پارٹی سربراہ واپسی تقریباً یقینی نظر آ رہی ہے۔ پارٹی کے کارگزار صدر سنجے جھا نے ان کی جانب سے کاغذات نامزدگی کے دو سیٹ جمع کرائے۔ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 22 مارچ ہے، جبکہ 23 مارچ کو کاغذات کی جانچ پڑتال ہوگی۔ اگر کوئی رکاوٹ سامنے نہ آئی تو نتیش کمار ایک بار پھر پارٹی کے صدر منتخب ہو جائیں گے، اور ان کی مدت 2028 تک جاری رہے گی۔
 
پارٹی کے اندر تنظیمی انتخابات، جو ریاستی سطح تک مکمل ہو چکے ہیں، اب آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ قومی صدر کے انتخاب کے لیے صرف رسمی کارروائیاں باقی رہ گئی ہیں، جو مقررہ وقت کے اندر مکمل کی جا رہی ہیں۔ 24 مارچ کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ ہے، جس کے بعد صورتحال مکمل طور پر واضح ہو جائے گی۔ چونکہ اب تک کوئی دوسرا امیدوار سامنے نہیں آیا، اس لیے نتیش کمار کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کا امکان بہت مضبوط ہے۔
 
پارٹی کے ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا نے بھی واضح کیا ہے کہ یہ پارٹی کارکنان کی اجتماعی خواہش ہے کہ نتیش کمار ہی قیادت جاری رکھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جے ڈی (یو) اس وقت قیادت میں کسی تبدیلی کے حق میں نہیں اور استحکام کو ترجیح دے رہی ہے۔ ادھر بہار کی سیاست میں ایک اور اہم پہلو بھی زیر بحث ہے۔ نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کے فیصلے کے بعد ان کے بیٹے نشانت کمار کی سیاست میں انٹری نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ساتھ ہی، ریاست کے اگلے وزیر اعلیٰ کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔
 
ذرائع کے مطابق، اس بار بہار کا وزیر اعلیٰ بی جے پی سے ہو سکتا ہے۔ این ڈی اے کے اتحادی چراغ پاسوان نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔ مزید برآں، نتیش کمار نے حالیہ مواقع پر سمرت چودھری کو آگے لا کر ان کی حوصلہ افزائی کی، جسے سیاسی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔مجموعی طور پر، جے ڈی (یو) میں قیادت تو مستحکم نظر آ رہی ہے، لیکن بہار کے سیاسی مستقبل کو لے کر سوالات اب بھی برقرار ہیں۔