Thursday, March 26, 2026 | 06 شوال 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • موٹاپا صرف وزن کا بڑھنا نہیں، ایک سنگین بیماری: ماہرین کی اہم وارننگ

موٹاپا صرف وزن کا بڑھنا نہیں، ایک سنگین بیماری: ماہرین کی اہم وارننگ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Mar 26, 2026 IST

موٹاپا صرف وزن کا بڑھنا نہیں، ایک سنگین بیماری: ماہرین کی اہم وارننگ
آج کے دور میں موٹاپا ایک عام مسئلہ بن چکا ہے، مگر ماہرین کے مطابق اسے صرف وزن بڑھنے تک محدود سمجھنا ایک بڑی غلطی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپا درحقیقت ایک پیچیدہ بیماری ہے جو انسانی جسم کے مختلف نظاموں جیسے دل، دماغ، ہارمونز اور میٹابولزم پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔

موٹاپے کی بنیادی وجہ غیر صحت بخش طرزِ زندگی

 منصف ٹی وی کے خاص پروگرام   ہیلتھ اور ہم میں ماہر  ڈاکٹر سید مصطفیٰ اشرف نے بتایا کہ موٹاپے کی بنیادی وجہ غیر صحت بخش طرزِ زندگی ہے۔ روزمرہ کی عادات جیسے بے وقت کھانا، کم جسمانی سرگرمی، ناکافی نیند اور ذہنی دباؤ اس بیماری کو بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاسٹ فوڈ کلچر اور مصنوعی غذاؤں کے بڑھتے استعمال نے بچوں اور نوجوانوں میں بھی موٹاپے کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے۔

موٹا کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے

ڈاکٹر سید مصطفیٰ اشرف کے مطابق موٹاپے کی تشخیص کے لیے باڈی ماس انڈیکس (BMI) ایک اہم پیمانہ ہے، جس کے ذریعے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کوئی شخص نارمل، اوور ویٹ یا اوبیس ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صرف وزن دیکھنا کافی نہیں بلکہ جسم میں چربی کی مقدار اور اس کی تقسیم بھی اہم ہوتی ہے، خاص طور پر پیٹ کے گرد جمع ہونے والی چربی دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔

موٹاپے سے کئی خطرناک بیماریاں

ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپا کئی خطرناک بیماریوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، جن میں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، فیٹی لیور اور نیند کی بیماریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ذہنی صحت پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے، جس سے ڈپریشن اور خود اعتمادی میں کمی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

سخت ڈائٹس یا اچانک تبدیلیاں مؤثر نہیں

ڈاکٹر مصطفیٰ اشرف نے اس بات پر زور دیا کہ وزن کم کرنے کے لیے سخت ڈائٹس یا اچانک تبدیلیاں مؤثر نہیں ہوتیں بلکہ مستقل اور متوازن طرزِ زندگی اپنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق روزانہ کم از کم 10 ہزار قدم چلنا، کارڈیو ایکسرسائز کرنا، متوازن غذا لینا اور نیند کا خاص خیال رکھنا انتہائی اہم ہے۔

والدین کو مشورہ

انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں کو کم عمری سے ہی صحت مند عادات سکھائیں اور انہیں جنک فوڈ، سافٹ ڈرنکس اور غیر معیاری کھانوں سے دور رکھیں۔ اس کے بجائے گھریلو اور تازہ غذا کو ترجیح دیں اور کھیل کود کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کریں۔آخر میں ماہرین نے پیغام دیا کہ صحت مند رہنا صرف دُبلا نظر آنے کا نام نہیں بلکہ ایک متوازن، فعال اور توانائی سے بھرپور زندگی گزارنے کا نام ہے۔ چھوٹی چھوٹی مثبت تبدیلیاں بڑی بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
قارئین آپ  ڈاکٹر کی مکمل گفتگو نیچے دیئےگئے ویڈیو پر بھی دیکھ سکتےہیں۔