Wednesday, January 07, 2026 | 18, 1447 رجب
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • !پرانی دہلی کی قدیم مسجددرگاہ فیضِ الٰہی تنازع، ایم سی ڈی کی کاروائی کا خدشہ

!پرانی دہلی کی قدیم مسجددرگاہ فیضِ الٰہی تنازع، ایم سی ڈی کی کاروائی کا خدشہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 05, 2026 IST

!پرانی دہلی کی قدیم مسجددرگاہ فیضِ الٰہی تنازع، ایم سی ڈی کی کاروائی کا خدشہ
پرانی دہلی کے ترکمان گیٹ علاقہ میں واقع مسجد درگاہ فیضِ الٰہی سے متعلق تنازعہ تاحال برقرار ہے، جبکہ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کی جانب سے انہدامی کاروائی کی تلوار بدستور لٹک رہی ہے۔حالات کی نزاکت کے پیشِ نظر علاقے میں پولیس گشت بڑھا دی گئی ہے اور امن وامان برقرار رکھنے کے لیے دہلی پولیس نے مقامی مساجد کے ائمہ کرام کے ساتھ ایک اہم میٹنگ بھی کی۔

مہلت کے لئے ڈپٹی کمشنر سے نمائندگی

مسجد فیض الٰہی پر سیلنگ اورانہدامی کارروائی کے منڈلا رہے خطرہ کے بادل کی روک تھام کے پیش نظر مسجد انتظامی  کمیٹی کو قانونی چارہ جوئی کی غرض سے مہلت دیئے جانے کے لئے دہلی میونسپل کارپوریشن کے سٹی ایس پی زون کے ڈپٹی کمشنر وویک اگروال سے  ملاقا ت کرکے انہیں موجودہ صورتحال سے واقف کرایا ۔
اس موقع پر دہلی گیٹ کی کونسلر کرن بالا نے زونل چیئر مین وکاس ٹونک ، سابق کونسلر راکیش کمار اور سوشل اینڈ آرٹی آئی ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی  بھی موجود رہے۔

 منگل 6 جنوری تک مہلت 

واضح ہو کہ 4جنوری تک عدالت کی سرمائی چھٹیوں کے سبب مسجد منتظمہ کمیٹی عدالت سے رجوع نہیں کر پائی ہے۔ اس بابت زونل ڈی سی کو شاہد گنگوہی نے ایم سی ڈی کے لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ کے گزشتہ 22دسمبر کے جاری آرڈر میں متضاد نکات کی جانکاری دی۔ جس پر غور کرتے ہوئے ڈی سی وویک اگروال نے مزید دو دن(منگل تک) کی مہلت دی۔زون ڈپٹی کمشنر کی دو دن کی مہلت کی یقین دہانی کے بعد یہ نتیجہ نکالا جا رہا ہے کہ 6جنوری کے بعد شادی وغیرہ کی سرگرمیوں کی جگہ پر یا تو انہدامی کارروائی ہوگی یا پھر اس مقام کو سیل کردیا جائے گا ۔قابل ذکر ہے کہ ایم سی ڈی کے انہدامی دستہ نے مسجد کمیٹی کو 4 جنوری تک کارروائی کرنے کی وارننگ دی ہوئی ہے

مسجدمینجمنٹ کمیٹی عدلت سے رجوع

آج 5 جنوری 2026کومسجدمینجمنٹ کمیٹی نے اس معاملے میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایاہے،جس پر کل 6جنوری کو سماعت متوقع ہے۔ واضح رہے کہ 12 نومبر کوپریت سیروہی، جوسیوانڈیافاؤنڈیشن کے بانی ہیں، کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے حکم صادرکیاتھاکہ درگاہ فیضِ الٰہی کے بارات گھر اور ڈسپنسری مکمل طور پر سرکاری زمین پرناجائز قبضہ ہیں اور عدالت نے دہلی میونسپل کارپوریشن کو تین ماہ کے اندر کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی تھی۔

ایم سی ڈی کاروائی کا خدشہ 

عدالتی احکامات کے بعد دہلی میونسپل کارپوریشن نے 2تاریخ کو متعلقہ فریقین کے کاغذات کاجائزہ لینے کے لیے میٹنگ کی،جسکے بعد 22تاریخ کوحتمی حکم جاری کرتے ہوئے کاروائی کا عندیہ دیا گیا۔ اسی بنا پر یہ خدشہ ظاہرکیاجارہاتھاکہ 4یا5جنوری کوایم سی ڈی کاروائی کرسکتی ہے۔ اسی پس منظر میں 5 جنوری کو شاہی امام مولاناسیداحمدبخاری کی درگاہ فیضِ الٰہی آمد کا اعلان کیاگیاتھا، تاہم وہ ایک دن قبل ہی درگاہ پہنچ گئے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ لیفٹیننٹ گورنر اور پولیس کمشنر سے ملاقات کریں گے۔ ادھر مٹیامحل کے رکنِ اسمبلی حاجی آلے محمد اقبال اور پرانی دہلی کے عوام بھی دوپہرتقریباً2 بجے درگاہ فیضِ الٰہی پہنچے اورصورتِ حال پر نظر رکھی۔

 علاقہ کےعوام میں بے چینی

دوسری جانب عدالت 6 جنوری 2026 کو  اس معاملے کی سماعت کرے گی،تاہم اندیشہ ظاہرکیاجارہاہےکہ ایم سی ڈی کسی بھی وقت کاروائی شروع کر سکتی ہے۔علاقہ مکینوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے اورتمام نگاہیں عدالت کے آئندہ فیصلے پرمرکوزہیں۔

دہلی کی 123پراپرٹیز کا معاملہ عدالت میں

درگاہ فیض الہیٰ مسجد کی منیجنگ کمیٹی کے جنرل سکریٹری حافظ مطلوب کریم نے  بتایا کہ پچھلے دنوں دہلی میونسپل کارپوریشن کے متعلقہ محکمہ کے ڈائریکٹر نے ایم سی ڈی ہیڈ کوارٹر میں ڈی ڈی اے ، ا یل این ڈی او ،دہلی وقف بورڈکے افسران سمیت مسجد کمیٹی کے عہدیداران کے ساتھ میٹنگ ہوئی تھی ۔ د ہلی کی 123پراپرٹیز کا معاملہ میں عدالت میں زیر غور ہے ،اس کے باوجود مسجد فیض الہیٰ کو غیر قانونی بتا کر نیا تنازع پیدا کیا جا رہا ہے ۔اس دوران بتایا گیا کہ ماضی میں1971میں لینڈ یوز تبدیل کر مسجد کی اراضی پر مندر تعمیر کردیا گیا اور مسجد فیض الہیٰ کا مدعا عدالت میں اچھال کر فرقہ  وارانہ ماحول بگاڑنے کی کوشش ہورہی ہے۔

اراضی کا استعمال غیر قانونی نہیں

 مسجد کے احاطہ میں  کوئی کمر شیل استعمال نہیں ہورہا ہے جو احاطے میں ڈائلسز سینٹر چل رہا ہے اس سے غریب غربا ضرورت مند فیض یاب ہو رہے ہیں ،یہاں شادیاں کبھی  کبھی ہوتی ہیں مستقل نہیں ہوتی ہیں ۔ بلکہ اس جگہ کا عارضی استعمال ہوتا ہے کوئی مستقل بارات گھر نہیں ہے ۔ ،یہ الگ بات ہے فلاحی کام ضرور ہورہے ہیں۔

 ہرسال دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی حج کیمپ

یہاں حج کے سیزن میں ہر سال ملک بھر کے عازمین کے لئے مرکزی سرکار اور دہلی سرکار کے اداروں کی نگرانی میں دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی حج کیمپ لگاتی ہے ۔ہر سال رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں یہاں نمازتراویح کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔یہاں بجلی کا بل باضابطہ ادا کیا جاتا ہے اور کسی بھی فلاحی کام میں تعینات ملازمین کو تنخواہ بھی ادا کی جا تی ہے ۔