Sunday, September 13, 2026 | 29 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملہ، ایک ہلاک، 3 زخمی

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملہ، ایک ہلاک، 3 زخمی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 13, 2026 IST

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملہ، ایک ہلاک، 3 زخمی
ایرانی حکام کے مطابق اتوار کے روز آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان اس اہم آبی گزرگاہ کو لے کر کشیدگی جاری ہے۔ رپورٹ  کے مطابق قشم شہر کے گورنر امیر تیموری نے بتایا کہ صبح تقریباً 5 بجے ہنگام اور جزیرہ قشم کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں ایک شخص ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوئے۔ انہوں نے حملے کے ماخذ یا نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ اس سے قبل رات کے وقت آبنائے ہرمز کے سب سے بڑے جزیرے قشم کے آس پاس کئی دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
 
رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں تازہ حملے کے ساتھ ہی سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن بھی حالیہ ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کردی گئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی صورتحال پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
 
یہ ہلاکت خیز واقعہ عمان میں ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان ہونے والے ایک اہم اجلاس سے ایک روز قبل پیش آیا ہے۔ اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت متوقع ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان گزشتہ چھ ماہ سے جاری کشیدگی میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایک اہم تنازع بن چکا ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد ایران نے اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔
 
ایران اب سکیورٹی اور خودمختاری سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بحری جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے سے قبل پیشگی اجازت لینا ضروری قرار دے رہا ہے۔ ایران سروس فیس عائد کرنے کے طریقہ کار پر بھی غور کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جو بحری جہاز ایرانی ہدایات پر عمل نہیں کرتے، انہیں ایرانی کاروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ امریکہ بھی آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو چیلنج کر رہا ہے۔
 
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر ایران اور عمان کے درمیان بات چیت بھی جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ فوری طور پر آبنائے کھولنے کا کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، جبکہ تہران نے اس معاملے سے متعلق کچھ شرائط رکھی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کے حق پر بھی زور دے رہا ہے، جبکہ عمان اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا۔ تازہ صورتحال یہ ہے کہ 10 ستمبر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد صرف 7 رہ گئی تھی، جبکہ جنگ سے پہلے روزانہ اوسطاً تقریباً 125 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔