Wednesday, March 25, 2026 | 05 شوال 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • مغربی بنگال اسمبلی الیکشن میں نئےسیاسی باب کا آغاز: ایم آئی ایم اور جے یوپی میں اتحاد

مغربی بنگال اسمبلی الیکشن میں نئےسیاسی باب کا آغاز: ایم آئی ایم اور جے یوپی میں اتحاد

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Mar 25, 2026 IST

 مغربی بنگال اسمبلی الیکشن میں نئےسیاسی باب کا آغاز: ایم آئی ایم اور جے یوپی میں اتحاد
 کل ہند مجلس اتحاد المسلمین  (اے آئی ایم آئی ایم )کےصدر بیرسٹر اسد الدین اویسی مغربی بنگال اسمبلی میں الیکشن میں پارٹی کی حکمت عملی طے کرنے کےلئے پہنچ چکےہیں۔ صدر مجلس نے جنتا اُنان پارٹی (جے یو پی) کے بانی ہمایوں کبیرسے اپنی پارٹی کے لیڈروں کےساتھ ملاقات کی۔ اورآنےوالےاسمبلی انتخابات میں جے یو پی ، اور ایم آئی ایم  مل کر الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ اسد الدین اویسی نے مغربی بنگال کی ٹی ایم سی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

 ٹی ایم سی نے مسلم ووٹ لیے لیکن کمیونٹی کیلئے کچھ نہیں کیا 

 کولکتہ میں ہمایوں کبیر کےساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ حیدرآباد کےرکن پارلیمنٹ نے  الزام لگایا کہ  ٹی ایم سی نے مسلم ووٹ حاصل کیے لیکن کمیونٹی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ چیف منسٹر ممتا بنرجی کی سیاست نے مغربی بنگال میں بی جے پی کو بڑھنے میں مدد دی۔

 مسلمانوں کی سیاسی قیادت کومضبوط کرنےکی کوشش

بیر سٹر اویسی نے دعویٰ کیا کہ بنگال کے لوگوں کا دم گھٹ گیا ہے، اور ان کی پارٹی نے ہمایوں کبیر کی اے جے یو پی کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے تاکہ وہ متبادل تلاش کر سکیں۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا، "ہمایوں کبیر کے ساتھ ہمارے اتحاد کا مقصد مغربی بنگال میں کمزور طبقات کے استحصال کو روکنا اور انہیں بااختیار بنانا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا اتحاد مسلمانوں کی سیاسی قیادت کو مضبوط کرنے کی بھی کوشش کرے گا ۔ اویسی نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں اقلیتوں کی ترقی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا مغربی بنگال میں ان کی پارٹی کی موجودگی بی جے پی کو مدد دے گی، انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں لوگ اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ دینے کے لیے آزاد ہیں۔

 ہمایوں کبیرنے بھی اتحاد کی تصدیق کی 

 جنتا اُنان پارٹی (جے یو پی) کے بانی ہمایوں کبیر نے بدھ کو مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی کے ساتھ اپنے سیاسی اتحاد کی مضبوطی کی تصدیق کی۔کبیر، اویسی کی گہری تعریف کے ساتھ بات کرتے ہوئے، انہیں اپنا "بڑا بھائی" قرار دیا اور اس اسٹریٹجک شراکت داری پر زور دیا جو ان کی مہم کی رہنمائی کرے گی۔

اویسی صاحب بڑے بھائی: ہمایوں کبیر 

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، کبیر نے کہا، "میں نے ان (اویسی) کو اپنا بڑا بھائی مانتے ہوئے اور ان انتخابات میں ان کی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی ہے۔"کبیر کے ریمارکس نے اتحاد اور اجتماعی فیصلہ سازی پر زور دیا جو ان کی انتخابی حکمت عملیوں کو تشکیل دے گا۔ "میرے امیدوار کون ہیں، ہم کن سیٹوں سے مقابلہ کر رہے ہیں، اور وہ (اے آئی ایم آئی ایم) کن سیٹوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں- میں نے یہ فیصلہ کل رات کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا۔ میرے بڑے بھائی کی مشاورت سے کل رات جو فیصلہ ہوا ہے وہ میدان جنگ میں ہمارا حتمی فیصلہ ہوگا۔ ہم مل کر لڑیں گے،"

مشترکہ انتخابی مہم،20 ریلیاں کرنے کا اعلان 

 ہمایوں کبیر نے مشترکہ مہم کے شیڈول کی بھی تفصیل دی، جس میں پورے مغربی بنگال میں 20 ریلیوں کا سلسلہ شامل ہے۔ پہلی ریلی یکم اپریل کو بہرام پور میں منعقد ہوگی، جہاں کبیر اور اویسی دونوں ایک بڑے ہجوم سے خطاب کریں گے۔کبیر نے اویسی کی ریلیوں میں شرکت کے لیے اپنی بے تابی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "میں نے اپنے بڑے بھائی سے اپیل کی ہے کہ چونکہ ان دو مرحلوں میں مغربی بنگال کے انتخابات قریب آرہے ہیں، اس لیے وہ میرے ساتھ کم از کم 20 ریلیوں میں شرکت کریں۔"

یکم اپریل کو بہرام پور میں پہلی ریلی 

یہ ریلیاں کلیدی حلقوں بشمول مرشد آباد، شمالی بنگال، مالدہ، بیر بھوم، اتر دیناج پور، آسنسول اور آخر میں کولکتہ میں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔کبیر نے کہا، "ہماری پہلی ریلی یکم اپریل کو بہرام پور میں اویسی کے ساتھ ہوگی۔ میرے بڑے بھائی وہاں دوپہر 1:00 بجے موجود ہوں گے۔ میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ لاکھوں لوگوں کے ساتھ وہ پہلا جلسہ بہرام پور میں کروں گا۔"

 اویسی صاحب کی قیادت کی پیروی کرنے کاعزم 

ہمایوں  کبیر  نے مزید وضاحت کی کہ بعد کی ریلی کی تاریخوں کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ بہار اور حیدرآباد کے رہنما ان کے ساتھ ریلیوں میں شامل ہوں گے۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں، کبیر نے مہم کے ہر پہلو میں اویسی کی قیادت کی پیروی کرنے کے اپنے عزم پر زور دیا۔ "اس اتحاد کے ذریعے، میرا بھائی جو بھی فیصلہ کرے گا اور جو بھی ہدایت دے گا، میں آنے والے دنوں میں اس پر عمل کروں گا۔ یہ اتحاد کبھی نہیں ٹوٹے گا،" انہوں نے شراکت کے لیے اپنی لگن کو تقویت دیتے ہوئے کہا۔

اتحاد سال 2026 کےالیکشن تک محدود نہیں 

 کبیر نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ اتحاد صرف 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لیے نہیں تھا بلکہ مستقبل کی مہموں تک بھی اس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک میں زندہ ہوں اور سیاست میں ہوں، 2026 میں ہم نے ایک ساتھ شروع کیا سفر جاری رہے گا۔ اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اویسی نے اتوار کو اعلان کیا کہ پارٹی ہمایوں کبیر کی عام جنتا اُنان پارٹی کے ساتھ مل کر مغربی بنگال کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لے گی۔