امریکی خصوصی نمائندے سرجیو گور کے مطابق امریکی صدر نے وزیر اعظم مودی سے ٹیلیفونک گفتگو کی ہے، جس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی اہمیت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرجیو گور کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں توانائی کی سلامتی اور عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات پر بھی بات کی، تاکہ تیل اور ایل پی جی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔ دوسری جانب بھارت کے سابق خارجہ سیکریٹری اور راجیہ سبھا کے رکن ہرش وردھن شرنگلا نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں یہ رابطہ نہایت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس سے عالمی منڈیوں اور توانائی کی سپلائی پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایران کے لیے امدادی مہم
ادھر انڈیا میں شیعہ برادری نے ایران کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر مالی امداد جمع کرنے کی مہم شروع کر دی ہے۔ ریاست اتر پردیش کے شہر لکھنؤ میں ایک درگاہ کے چیئرمین میثم رضوی نے کہا ہے کہ ایران میں مسلسل بمباری کے باعث حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں، اسکول بند ہیں اور عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے درگاہ پر ایک کیش کاؤنٹر قائم کیا گیا ہے جبکہ آن لائن ادائیگی کے لیے کیو آر کوڈ بھی متعارف کرایا گیا ہے، تاکہ لوگ بآسانی مالی مدد فراہم کر سکیں۔
لکھنؤ میں شیعہ برادری کی خواتین اور بچے بھی اس مہم میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اور ایران کے عوام کی مدد کے لیے دل کھول کر عطیات دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جانب عالمی سطح پر سفارتی رابطے تیز ہو رہے ہیں، تو دوسری جانب عوامی سطح پر بھی انسانی ہمدردی کے تحت امدادی سرگرمیاں زور پکڑ رہی ہیں، جو اس بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔