Saturday, April 18, 2026 | 29 شوال 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • مودی کا قوم سے خطاب: خواتین ریزرویشن معاملے پر معذرت، اپوزیشن پر شدید تنقید

مودی کا قوم سے خطاب: خواتین ریزرویشن معاملے پر معذرت، اپوزیشن پر شدید تنقید

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 18, 2026 IST

مودی کا قوم سے خطاب: خواتین  ریزرویشن معاملے پر معذرت، اپوزیشن پر شدید تنقید
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کی شب قوم سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کے حقوق سے متعلق اہم مسئلے پر بات کی اور خواتین ریزرویشن بل کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملک کی ماؤں اور بہنوں سے معذرت کی۔
 
اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ "آج میں ایک نہایت اہم مسئلے پر بات کرنے آیا ہوں، خاص طور پر ملک کی خواتین کے لیے۔ ہر شہری دیکھ رہا ہے کہ خواتین کی ترقی کا سفر رک سا گیا ہے۔ ہماری بھرپور کوششوں کے باوجود ہم اس میں کامیاب نہیں ہو سکے اور ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ میں ترمیم نہیں ہو سکی۔ میں اس پر ملک کی تمام ماؤں اور بہنوں سے معافی مانگتا ہوں۔"
 
انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی جماعتوں کے لیے قومی مفاد کے بجائے سیاسی فائدہ زیادہ اہم ہو جاتا ہے، جس کا خمیازہ خواتین کو بھگتنا پڑتا ہے۔ "اس بار بھی یہی ہوا اور ملک کی ناری شکتی کو خودغرض سیاست کا شکار بنایا گیا۔"وزیر اعظم مودی نے کانگریس، ڈی ایم کے، ترنمول کانگریس اور سماج وادی پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں نے پارلیمنٹ میں خواتین کے حقوق کی مخالفت کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بل کی شکست پر اپوزیشن جماعتوں نے خوشی کا اظہار کیا، جو خواتین کی عزتِ نفس پر حملہ ہے۔
 
 پی ایم  نے مزید کہا کہ "خواتین سب کچھ بھول سکتی ہیں لیکن اپنی توہین کبھی نہیں بھولتیں، اس لیے اپوزیشن کے اس رویے کا اثر ہر خاتون کے دل میں رہے گا۔"
مودی نے کانگریس کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اسے اپنی "تاریخی غلطیوں" کو درست کرنے کا موقع ملا تھا مگر وہ اس میں ناکام رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس علاقائی جماعتوں کے سہارے سیاست میں باقی ہے اور انہیں بھی آگے بڑھنے سے روکنا چاہتی ہے۔
 
وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں خواتین کو بااختیار بنانے سے اس لیے خوفزدہ ہیں کیونکہ اس سے ان کی خاندانی سیاست کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ "وہ نہیں چاہتے کہ ان کے خاندان سے باہر کی خواتین قیادت میں آئیں۔"
 
انہوں نے کہا کہ ’ناری شکتی وندن‘ ترمیم کسی سے کچھ چھیننے کے لیے نہیں بلکہ خواتین کو ان کے دیرینہ حقوق دینے کے لیے تھی، جس پر گزشتہ 40 برسوں سے عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے اسے خواتین کی ترقی کے لیے ایک "اہم قدم" قرار دیا۔
 
آخر میں وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ ملک کی خواتین باشعور ہیں اور وہ سب کچھ دیکھ رہی ہیں، اس لیے اپوزیشن کو اپنے فیصلے کی سیاسی قیمت چکانا پڑے گی۔یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا، جس کے بعد ملک میں سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔